Tuesday, June 28, 2011

ہندوستانی مسلمانوں کے معاشی مسائل


ہندوستانی مسلمانوں کے معاشی مسائل
شمع فروزاں
مولاناخالدسیف اللہ رحمانی
۲۴/جون ۲۰۱۱ء

اسلام نے کسب معاش کی تر غیب دی ہے ، اور اس کو بعض دوسرے مذاہب کی طرح تقوی اور خد ا پرستی کے مغائر قرار نہیں دیا۔معیشت کے سلسلے میں اگر اسلام کے بنیادی تصور کو واضح کیا جائے تو انہیں چند نکات میں اس طرح بیان کیاجاسکتاہے :
)
الف ) زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح معیشت کے بارے میں بھی اسلامی تعلیمات اعتدال پرمبنی ہیں ،ا سلام نے مال کو ’’ خیر‘‘ (البقرۃ : ۲۱۵) اور ’’فضل الہی ‘‘ (الجمعہ : ۱۰) سے تعبیر کیاہے ، جس سے ظاہرہے کہ مال کے حقوق اداکرتے ہوئے اسے حاصل کرنا اسلام کی نظرمیں کوئی مذموم بات نہیں ہے ، بلکہ مباح اور بعض حالات میں واجب ہے ، قرآن مجید میں ۳۲مواقع پر تو اسلوب وتعبیر کے قدرے فرق کے ساتھ صرحتاً زکوۃ دینے کی تلقین کی گئی ہے ، اور صرف ایک آیت میں زکوۃ لینے کا ذکر فرمایاگیاہے ، یہ اس بات کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ قرآن چاہتاہے کہ امت میں زکوۃ دینے والے مرفہ الحال افراد زیادہ ہوں اور زکوۃ لینے والے تنگ دست حضرات کم ہوں ، اسی کو رسول اللہ ﷺ نے : ’’ الید العلیا خیرمن الید السفلی ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الزکاۃ ، باب لاصدقۃ إلاعن ظہر غنی، حدیث نمبر : ۱۳۶۱) سے تعبیرفرمایا ہے ، اور نماز کے بعد کسب حلال کو اہم ترین فریضہ قراردیاہے : ’’ کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ‘‘ ، اس لئے مسلمانوں کی معاشی ترقی کے سلسلہ میں غورکرنا ، اس مسئلہ کے لئے منصوبہ بندی کرنا اور امت کے پسماندہ لوگوں کو معاشی ترقی کے اعتبارسے اوپراٹھانے کی کوشش کرنا ایک مستحسن عمل اور اجتماعی فریضہ ہے ۔
(
ب) معیشت کے سلسلہ میں اسلام کے بنیادی تصورات میں سے یہ بھی ہے کہ کسب وصرف یعنی مال کا حاصل کرنا اور اس کا خرچ کرنا اس طورپر ہوکہ وہ افراداور سماج کے لئے نفع بخش ہو ، نقصان دہ نہ ہو؛ اسی لئے قمارکو منع کیاگیاکہ اس کی وجہ سے کسی معقول سبب کے بغیر بہت سے لوگوں کی دولت ضائع ہو جاتی ہے اور انسان کے اندر بغیر محنت کے دوسروں کا مال ہڑپ لینے کا مزاج پیدا ہوتاہے ، ایسی چیزوں کی تجارت سے منع کیاگیاجولوگوں کے لئے نقصان دہ ہو ، جیسے : منشیات ، تجارت میں احتکار سے منع کیاگیا ؛ کیوں کہ ذخیرہ اندوزی کا عمل ایک شخص کو فائدہ پہنچاتا ہے اور پورے سماج کو نقصان، اسی طرح خرچ کرنے میں بھی فرداور سماج کے نفع ونقصان کوملحوظ رکھاگیا ؛ فضول خرچی کی ممانعت کی گئی ؛ کیوں کہ اس سے قو میں معاشی پسماندگی میں مبتلاہوتی ہیں اور تعلیم ، صحت اور دوسرے مفید کاموں میں خرچ نہیں کرپاتی ہیں ۔
)
ج) اسلام میں اس بات کو بڑی اہمیت دی گئی کہ دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کرنہ رہ جائے ؛ بلکہ وہ زیاد ہ سے زیادہ تقسیم ہو اور گردش میں رہے : (مَّا أَفَاء اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہٖ مِنْ أَہْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ کَیْْ لَا یَکُوْنَ دُولَۃً بَیْْنَ الْأَغْنِیَاءِ مِنکُمْ ) (الحشر : ۷) چنانچہ قدرتی وسائل اگر شخصی زمین میں بھی دریافت ہوں تو ان کا معتدبہ حصہ بیت المال کا حق قراردیاگیا؛ تاکہ تمام لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں ، میراث کا مکمل نظام مقرر ہوا ،زکوۃ وعشر کو واجب قراردیاگیا؛ وغیرہ۔۔۔غرض کہ شریعت میں یہ بات پسندیدہ نہیں ہے کہ سماج میں دولت اور اس کے وسائل چند ہاتھوں میں مرتکزہوکررہ جائیں ۔
)
د) اسلام میں نفع کا فطری تصورہے ؛ اسی لئے سود کو حرام قراردیاگیا ، سود ایک غیر فطری چیزہے ؛ کیوں کہ خود پیسوں سے پسیے پیدا نہیں ہو سکتے ، اور سود خواریہ فرض کرکے نفع وصول کرتاہے کہ اس کے پیسوں سے لامحالہ پیسوں میں اضافہ ہوگا ؛ اسی طرح اسلام میں انسانی محنت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ؛ کیوں کہ فطری اصول یہ ہے کہ جب تک مال کے ساتھ انسانی محنت کی شمولیت نہ ہووہ نفع آور نہیں ہوتا ، اسی اصول پر اسلا م میں استشمار کے طریقوں میں مضاربت اور مزارعت شامل ہے ، مضاربت میں ایک شخض کا سرمایہ ہوتاہے اور درسرے کی محنت ، اور مزارعت میں ایک شخص کی زمین ہوتی ہے اور دوسرے کی محنت ، دونوں صورتوں میں یہ بات بھی ممکن ہے، اگر فریقین کی رضامندی ہو۔کہ محنت کارکے نفع کا تناسب زیادہ رکھاجائے ۔
اسلام کے نظام معیشت میں،جیساکہ عرض کیاگیا ۔۔بلکہ پورے نظام حیات میں اس بات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ کوئی ایساعمل نہیں ہوناچاہئے ،جوفطرت سے بغاوت پر مبنی ہو ؛ اسی لئے : تلقی جلب ، بیع حاضر للبادی ، تناجش اور احتکار وغیرہ کو منع کیاگیا ؛ کیوں کہ ان تمام صورتوں میں قیمتوں میں غیر فطری اتارچڑھا ؤپیدا کیا جاتاہے ، آج کل تشہیر ی وسائل (Advertising )کے ذریعہ مصنوعی طورپر چیزوں کی طلب بڑھائی جاتی ہے ، یہ بھی اسلام کی نظرمیں پسندیدہ نہیں ہے ؛ چنانچہ رسول اللہﷺ نے تجارت میں جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے کو بار بار منع فرمایا ہے اور کسی چیز کے فائدہ کو مبالغہ کے ساتھ بیان کرنا اور اس کے نقصانات کے پہلوپر پرد ہ ڈالنا بھی جھوٹ میں داخل ہے ، جس کا زبردست مظاہر ہ موجودہ دور میں اشتہارات کے ذریعہ ہوتارہتاہے ۔
اس عہد میں اسلام کے مقابلے دوبڑے معاشی نظام وجود میں آ ئے ، ایک : اشتراکیت ، جس نے سترسالہ تجربہ کے بعد اپنی جائے پیدائش ہی میں دم توڑدیا ، اور جہاں اب بھی باقی ہے وہاں بھی اس نے اپنے بعض بنیادی تصورات سے سبکدوشی قبول کرلی ہے ؛ اشتراکیت کی بنیاد دونظریات پرتھی : معاشی مساوات اور اجتماعی ملکیت ۔ اور یہ دونوں ہی باتیں قانون فطرت کے خلاف ہیں ،خدانے انسان کے اندر صلاحیتوں کا فرق رکھا ہے اور معاشی ترقی میں انسان کی صلاحیت اور لیاقت کا بڑاد خل ہے ، اس کے باوجوان سب کے درمیان معاشی مساوات ایک خواب توہوسکتا ہے ، حقیقت نہیں بن سکتا ۔ اسی طرح افرادکے اندر اپنی املاک میں محنت کرنے اوراسے ترقی دینے کا فطری جذبہ ہوتا ہے ، ایسی چیزجوتنہا اس کی ملکیت نہ ہو ؛ بلکہ سماج کی ملکیت ہو ، اس میں محنت کا جذبہ اس درجہ نہیں پایاجاتا ؛ لیکن اشتراکیت کے نمائندوں نے اجتماعی ملکیت کا تصوردیا اور انفرادی ملکیت کا انکارکیا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں محنت کرنے کا فطری جذبہ مفقود ہوتا گیا اور معاشی ترقی رک گئی ، اسلام کا تصوریہ ہے کہ بنیادی ضرورتیں سبھوں کو مہیاہوں ؛ لیکن یہ ضروری نہیں کہ معاشی معیار بھی سب کا ایک ہو ، اسی طرح اسلام انفرادی ملکیت کا قائل ہے ؛ لیکن افراد پر اس بات کو واجب قراردیتاہے کہ وہ اپنے مال میں سماج کا حق محسوس کریں ، نیز شریعت اسلامی میں زیادہ تر قدرتی وسائل کو حکومت کی ملکیت قراردیاگیاہے ؛ تاکہ اس کا نفع زیادہ سے زیاد ہ لوگوں تک پہنچ سکے ۔
اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام بھی اس وقت موت وزیست کی کیفیت میں ہے ؛ کیوں کہ ا س نظام نے افراد کو ایسابے لگام بنادیاہے کہ ان کے لئے کوئی اخلاقی سرحد نہیں ہے ، سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی خرابی سود اور قمارکی اجازت ہے ؛ کیوں کہ یہ نفع حاصل کرنے کے غیر فطری طریقے ہیں ، اس میں مال کومبالغہ آمیز اہمیت دی جاتی ہے اور مزدوروں کی محنت کوکوئی خاص درجہ نہیں دیاجاتاہے ، یہ نظام ذخیرہ اندوزی کی اجازت دیتاہے ؛ حالاں کہ یہ سماج کے غریب لوگوں کے ساتھ ظلم ہے ، اس میں مصنوعی طورپر صارفیت کو بڑھایاجاتاہے اور اشتہارات اور بے جاتر غیبات کے ذریعہ سماج کا مزاج بنایاجاتاہے کہ وہ اپنے آپ کو ضروریات پر قانع نہیں رکھے؛ بلکہ خواہشات کاغلام بن جائے اور اپنی صلاحیت سے زیادہ خرچ کرے ؛ تاکہ سرمایہ داروں کوزیادہ سے زیادہ نفع پہنچے ، چاہے غریب لوگ قرض اور فضول خرچی کے بوجھ سے دب کر مرہی کیوں نہ جائیں ۔
ان حالات میں خاص طور پر ضرورت ہے کہ اسلام کے معاشی نظام کواس کی معقولیت اور منطقیت کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھاجائے اور واضح کیاجائے کہ انسانیت کی حقیقی فلاح وبہبود اورمعاشی اعتبارسے عدل کا قائم کرنااس کے بغیر ممکن نہیں ۔
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے ، جس کو اللہ تعالی نے بے پناہ قدرتی اور افرادی وسائل سے نوازاہے ، تقریباً تمام ہی قدرتی وسائل اس ملک میں موجود ہیں ، اورافراد ی وسائل کا حال یہ ہے کہ ایشیا، یورپ اور امریکہ میں بے شمارہندوستانی ماہرین اور مزدورکام کررہے ہیں ، اور ان کی خدمت کو ہر جگہ تحسین کی نظرسے دیکھا جاتاہے ، ان میں ایک اچھی خاصی تعداد مسلمانوں کی بھی ہے ، مسلمان اس ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت یاپہلی بڑی اقلیت ہیں ، اور انڈونیشیا کے بعد سب سے زیادہ مسلمان اسی خطہ زمین میں آبادہیں ، کم وبیش ایک ہزار سال تک اس ملک کے مختلف خطوں پر مسلم سلاطین کی حکومت بھی رہی ہے ؛ لیکن اس وقت مسلمان یہاں انتہائی درجہ پسماندہ ہیں ، چنانچہ ۲۰۰۰۔۱۹۹۹ کے ایک سروے کے مطابق شہری علاقوں میں میں 222۲۴؍ اور دیہاتوں میں 222۳۱کے قریب مسلمان حط غربت سے نیچے زندگی گذاررہے ہیں ، ایک قومی سطح کے سروے کے مطابق بیس فیصد مالدار لوگ وہ تھے جن کی فی کس آمدنی کا وسط شہر میں 236/۱۱۲۰روپے ماہانہ اور دیہات میں 236 /۶۱۵روپے ماہانہ تھا ، ایسے لوگوں کا اوسط قومی سطح پر بالترتیب 222۱۶ اور 222۱۵فیصد ہے ، اور مسلمانوں میں یہ اوسط صرف 222۶ اور 222۱۲فیصد ہے ۔
معاش کے بنیادی طور پر تین ذرائع ہیں ، تجارت ، ملازمت اور صنعت ۔۔۔یہ حقیقت ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کا تجارت کی طرف رجحان مسلمانوں کے دور حکومت ہی سے کم تھا ، پھر آزادی کے بعد بہت سے مسلمان سرمایہ دار پڑوسی ملک کو منتقل ہوگئے اور جویہاں رہے ، فرقہ وارانہ فسادات نے ان کی کمرتوڑدی ؛ کیوں کہ ان فسادات میں مسلمانوں کی تجارت اور معیشت کو خاص طور پر نشانہ بنایاجاتاتھا ۔
مسلمانوں میں ملازمت کا رجحان زیادہ تھا ؛ لیکن چوں کہ انگریزوں کے خلاف جدوجہدمیں مسلمان پیش پیش تھے اور انگریزبھی ان کو اپنا بڑ ادشمن خیال کرتے تھے ، وہ سمجھتے تھے کہ چوں کہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے چھینی گئی ہے ؛ اس لئے وہی ہماری حکومت کے اصل باغی ہیں ، اور ان کو زیر کرنا اور محروم کرنا ضروری ہے ؛ اس لئے منصوبہ بند طور پر مسلمانوں کے لئے سرکاری ملازمت کے مواقع محدود کردئیے گئے ، آزادی کے بعد نقل مکانی اور اردو زبان کی سرکاری حیثیت ختم کردینے کی وجہ سے ملازمت میں ان کا تناسب اور کم ہوگیا ، فرقہ وارانہ تعصب نے بھی مسلمانوں کو بے حد نقصان پہنچایا ، صنعتی ترقی کے لئے کثیر سرمایہ اور قانونی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے ، چنانچہ معاشی پسماند گی اور ملک کی انتظامیہ میں فرقہ پرست افسروں کے درآنے کی وجہ سے صنعت میں بھی ان کا حصہ کم سے کم تر ہو تا چلاگیا ۔
حضرات ! اسی پس منظرمیں موجود ہ حالات میں ہندوستان میں مسلمانوں کی معاشی ترقی کے لئے چند امور پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے :
۱) مسلمانوں کے لئے ہندوستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بہت محدود ہوگئے ہیں ؛ کیوں کہ اسلام نے سود کو حرام قرار دیاہے اور بینک کا نظام اصلاً سود پر مبنی ہے ؛ اسی لئے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد منافع حاصل کرنے کے لئے بینکوں میں اپنی رقم محفوظ نہیں کرتی، یہی حال انشورنس کمپنیوں کا ہے کہ سود وقمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا دیندار طبقہ اختیاری طور پر انشورنس سے استفادہ نہیں کرتا ، اسٹاک ایکسچینج میں گوان کے لئے گنجائش موجودہے ؛ لیکن بہت سی کمپنیاں وہ ہیں جن کے کاروبار جواز کے دائرہ میں نہیں ہیں ؛ اس لئے و ہ میچول فنڈ سے بھی استفادہ نہیں کرپاتے ؛ البتہ یہ خوش آئند بات ہے کہ بعض ایسے ادارے قائم ہوگئے ہیں جوحلال وحرام کمپنیوں کے بارے میں نشاندہی کرتے ہیں ۔
ان حالات میں ہندوستان میں اسلامی مالیاتی اداروں کا قیام نہایت اہمیت کا حامل ہے ، اس سے ایک طرف سرمایہ کاروں کو حلال نفع مل سکے گا ، اور ممکنہ خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لئے اسلامی تکافل سے مددلی جائے گی ، اگر ہندوستان میں اسلامی بینکاری شروع ہو جائے تو امید کی جاتی ہے کہ بہت سے مسلم مما لک کے سرمایہ کار بھی ان کے واسطہ سے یہاں اپنا سرمایہ مشغول کریں گے ؛ اس لئے اگر حکومت ہند اسلامی بینکاری کا دروازہ کھولتی ہے ، تو اس سے نہ صرف مسلمانوں کی دیرینہ آرزوپوری ہوگی اور انہیں معاشی ترقی حاصل ہوگی ؛ بلکہ ملک کوفائدہ پہنچے گا ۔
۱)دوسرااہم مسئلہ مسلمانوں میں تعلیمی اوسط کو بڑھانے کاہے ، ۲۰۰۱ء کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں میں خواندگی کا اوسط ۵۹/فیصد سے کچھ او پرہے ، یہ ہندوستان میں بسنے والی تمام مذہبی اکائیوں میں سب سے کم شرح خواندگی ہے ورنہ جین کمیونٹی میں عام شرح خواندگی ، ۹۴/فیصد اور خواتین میں ۹۱/ فیصد کے قریب ہے یہاں تک کہ بودھ فرقہ میں بھی جوپسماندہ ترین سمجھے جاتے ہیں ، شرح خواندگی ۷۳/ فیصد ہے ۔
2000
کی مردم شماری کے مطابق ۱۵/ سال اور اس سے زیادہ عمر کے مسلمانوں میں تعلیم کا تناسب پرائمری سطح تک 25.40، فیصد، مڈل میں 13.86 فیصد سکنڈری میں 7.78فیصد ، ہائر سکنڈری میں 3.43فیصد اور گر یجویشن اور اس سے اوپر2.52فیصدہے ، مسلمانوں میں اسکول جانے والے بچوں کی تعداد 61.9فیصد ہے ، جب کہ اسکول جانے والے بچوں کی قومی شرح 72%فیصد ہے ، چھ تا چودہ سال کی عمر میں تلیمی سلسلہ منقطع کرنے والے بچوں کا اوسط مسلمان سماج میں 7%۰فیصد ہے ، جبکہ قومی سطح پر یہ تناسب 4.8% ہے ۔۔۔ اگر چہ گز شتہ دودہائیوں سے مسلمانوں میں تعلیمی رجحان بڑھاہے اور جنوبی ہندکی ریاستوں میں مسلمانوں نے اپنے تعلیمی ادارے بھی بہ کثرت قائم کئے ہیں ، مگراب بھی تعلیم میں ہم کافی پسماندہ ہیں ۔
یوں تو ہمیشہ سے ہی معیشت کا تعلق تعلیم سے رہاہے ، مگر موجودہ دورمیں معاشی ترقی کے لئے اس کی اہمیت وضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے ، جب تک تعلیمی اعتبارسے مسلمانوں کی حالت بہتر نہ ہو ، وہ معاشی پسماندگی کے دلدل سے باہر نہیں نکل سکتے ، موجودہ حکومت ایک حد تک مسلمانوں کے لئے تعلیمی مواقع بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے ؛ لیکن یہ مسلم سماج کی پسماندگی کے لحاظ سے اب بھی بہت کم ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری سطح پر بھی اس کے لئے کو ششیں ہوں اور مسلمان تنظیمیں بھی ایسے ادارے قائم کریں جوان مسلمان نوجوانوں کی مدد کریں ، جوبعض دفعہ بہت معمولی اسباب کی بناء پر تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیتے ہیں ، نیز مسلمان تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اعلی مقابلاتی امتحانات کے لئے تیارکریں ۔
۳)مسلمان تاجروں ، صنعت کاروں اور کا شتکاروں کے لئے رہنما اداروں کی بھی ضرورت ہے جن میں ماہرین ایسی چیز وں کی نشاندہی کریں جن کی تجارت مفید ہوسکتی ہے ، کونسی صنعت اس وقت اس کے حالات کے لحاظ سے بہتر ہوسکتی ہے اورکس علاقہ میں کونسی کا شت بارآورہو سکتی ہے ، اور اس کے لئے کیا مواقع ہیں ؟ ان کے بارے میں معلومات فراہم کریں ، اسی طرح مسلمان تاجر ، کا شت کار اور صنعت کار اپنی پیداوار کو کس طرح اور کہاں برآمد کرسکتے ہیں ، اس کی رہنمائی کریں ، ایسے رہنما ادارے مسلمانوں کی معیشت کو فروغ دینے میں اہم کردارادا کرسکتے ہیں ۔
۴) ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کوتجارت کی طرف راغب کیا جائے اور اس کے لئے ان کاذہن بنایاجائے؛ کیوں کہ تجارت خود اختیاری چیز ہے ، عام قسم کی تجارت میں نہ حکومت کی مدد ضروری ہے نہ پرائیوٹ کمپنیوں کی ؛ بلکہ حوصلہ ، شعور اور محنت کی ضرورت ہے اور اکثرفقہاء کے نزدیک تجارت کو کسب کی دوسری صورتوں پر فضیلت حاصل ہے ، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود تجارت فرمائی ہے ؛حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تاجر تھے ، اور زیادہ تر صحابہ رضی اللہ عنہم کا ذریعہ معاش یہی تھا ۔
۵) ناخواندہ اور کم تعلیم یافتہ مسلمان مردوں اور خواتین کو باعزت روزگارسے مربوط کرنے کے لئے اسلامی شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے مائکرو فائنانس (Micro finance ) کا نظام قائم کرنا بھی بڑی اہمیت کاحامل ہے ، اس طرح نہ صرف سماج کے غریب لوگ باعزت طورپرزندگی گزارنے کے لائق ہو سکیں گے ؛ بلکہ اس سے غربت سے پیداہونے والی سماجی برائیوں کو بھی دور کیا جاسکتاہے 

Monday, February 7, 2011

آپ کی امانت آپ کی سیوا میں

آپ کی امانت
آپ کی سیوا میں
مولانا محمد کلیم صدیقی
امن پبلی کےشنز
پھلت ،ضلع مظفر نگر(یوپی)251201


نام کتاب                        :           آپ کی امانت آپ کی سیوا میں
مصنف                :           مولانا محمد کلیم صدیقی
مصنف کا پتا                   :          
۱-موضع پُھلت براہ کھتولی ضلع مظفر نگر (یوپی)251201
موبائل(مصنف)   :           09313303149
ناشر                             :           امن پبلی کےشنز
پھلت،ضلع مظفر نگر(یوپی)251201
اشاعت              :           مارچ 2009
قیمت                            :          
Rs. 8 /-
PUBLISHER
AMAN PUBLICATION
Phulat, Distt. Muzaffar Nagar-251201
(
U.P.) INDIA

حرفِ چند

ایک نادان بچہ سامنے سے ننگے پیر آرہا ہو اور اس کا ننھا سا پاؤں سیدھے آگ پر پڑنے جارہا ہو تو آپ کیا کریں گے؟ آپ فوراً اس بچے کو گود میں اٹھا لیں گے اور اسے آگ سے بچاکر بے انتہا خوشی محسوس کرےں گے۔ اسی طرح اگر کوئی انسان آگ میں جھلس جائے یا جل جائے تو آپ تڑپ جاتے ہیں اور اس کے لیے آپ کے دل میں ہم دردی پیدا ہوجاتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا: آخر ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ۔ آدم و حوا کی اولاد ہیں اور ہر انسان کے سینے میں ایک دھڑکتا ہوا دل ہے، جس میں محبت ہے، ہم دردی ہے، غم گساری ہے۔ وہ دوسروں کے دکھ درد پر تڑپ اٹھتا ہے اور ان کی مدد کرکے خوش ہوتا ہے، اس لیے سچا انسان وہی ہے، جس کے سینے میں پوری انسانیت کے لیے محبت کا جذبہ ہو، جس کا ہر کام انسان کی خدمت کے لیے ہو اور جوکسی کو بھی دکھ درد میں دیکھ کر بے چین ہوجائے اور اس کی مدد اس کی زندگی کا لازمی تقاضا بن جائے۔
اس جہان میں انسان کی یہ زندگی عارضی ہے اور مرنے کے بعد اسے ایک اور زندگی ملنے والی ہے، جو دائمی ہوگی۔ اپنے سچے مالک کی بندگی اور اس کی اطاعت کے بغیر اسے مرنے کے بعد کی زندگی میں جنت حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے دوزخ کا ایندھن بننا پڑے گا۔
آج ہمارے لاکھوں کروڑوں بھائی اَن جانے میں دوزخ کا ایندھن بننے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں اور ایسے راستے پر چل رہے ہیں، جو سیدھا دوزخ کی طرف جاتا ہے۔ اس ماحول میں ان تمام لوگوں کی ذمے داری ہے، جو اللہ واسطے انسانوں سے محبت کرتے ہیں اور سچی انسانیت پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ آگے آئیں اور لوگوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا اپنا فرض پورا کریں۔
ہمیں خوشی ہے کہ انسانوں سے سچی ہم دردی رکھنے والے اور ان کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے دکھ میں گھلنے والے مولوی محمد کلیم صدیقی صاحب نے آپ کی خدمت میں پیار ومحبت کے کچھ پھول پیش کیے ہیں، جس میں انسانیت کے لیے ان کی محبت صاف جھلکتی ہے اور اس کے ذریعے انھوں نے وہ فرض پورا کیا ہے، جو ایک سچے مسلمان ہونے کے ناطے ہم سب پر عائد ہوتا ہے۔
ان الفاظ کے ساتھ دل کے یہ ٹکڑے اور آپ کی امانت آپ کے سامنے پیش ہے۔
وصی سلیمان ندوی
ایڈیٹر، ماہنامہ ارمغان ولی اللہ
پھلت ضلع مظفر نگر (یوپی)


اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور انتہائی رحم والا ہے
آپ کی امانت

مجھے معاف کردیں:

میرے پیارے قارئین!مجھے معاف کردیجیے، میں اپنی اور اپنی تمام مسلم برادری کی جانب سے آپ سے معذرت چاہتا ہوں، جس نے اس دنیا کے سب سے بڑے شیطان کے بہکاوے میں آکر آپ کی سب سے بڑی دولت آپ تک نہیں پہنچائی۔ اس شیطان نے گناہ کی جگہ گنہ گارکی بے عزتی دل میں بٹھا کر اس پوری دنیا کو جنگ کا میدان بنادیا۔ اس غلطی کا خیال کرکے ہی میں نے آج قلم اٹھایا ہے کہ آپ کا حق آپ تک پہنچاوں اور بغیر کسی لالچ کے محبت اور انسانیت کی باتیں آپ کو بتاوں۔
وہ سچا مالک جو دلوں کے حال جانتا ہے، گواہ ہے کہ ان صفحات کو آپ تک پہنچانے میں انتہائی اخلاص کے ساتھ میں حقیقی ہم دردی کا حق ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ان باتوں کو آپ تک نہ پہنچانے کے غم میں کتنی راتوں کی میری نیند اڑی ہے۔
ایک محبت بھری بات:
یہ بات کہنے کی نہیں، مگر میری تمنا ہے کہ میری ان محبت بھری باتوں کو آپ پیار کی آنکھوں سے دیکھیں اور پڑھیں۔ اس مالک کے بارے میں جو سارے جہان کو چلانے اور بنانے والا ہے، غور کریں، تاکہ میرے دل اور میری روح کو سکون حاصل ہو کہ میں نے اپنے بھائی یا بہن کی امانت اس تک پہنچائی اور اپنے انسان اور بھائی ہونے کا فرض ادا کردیا۔
اس جہان میں آنے کے بعد ایک انسان کے لیے جس سچائی کو جاننا اور ماننا ضروری ہے اور جو اس کی سب سے بڑی ذمے داری اور فرض ہے، وہ محبت بھری بات میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔

فطرت کا سب سے بڑا سچ:
اس جہان، بلکہ فطرت کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ اس جہان، تمام مخلوقات اورپوری کائنات کو بنانے والا، پیدا کرنے والا، اور اس کا نظام چلانے والا صرف اور صرف ایک اکیلا مالک ہے۔ وہ اپنی ذات ،صفات اور اختیارات میں اکیلا ہے۔ دنیا کو بنانے، چلانے، مارنے اور جلانے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ایک ایسی طاقت ہے، جو ہر جگہ موجود ہے۔ ہر ایک کی سنتا ہے، ہر ایک کو دیکھتا ہے۔ سارے جہان میں ایک پتّہ بھی اس کی اجازت کے بغیر جنبش نہیں کرسکتا۔ ہر انسان کی روح اس کی گواہی دیتی ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو اور چاہے وہ مورتی کا پجاری ہی کیوں نہ ہو، مگر اندر سے وہ یقین یہی رکھتا ہے کہ پیدا کرنے والا، پالنے والا، رب اور اصلی مالک تو صرف وہی ایک ہے۔
انسان کی عقل میں بھی اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں آتی کہ سارے جہان کا مالک ایک ہی ہے۔ اگر کسی اسکول کے دو پرنسپل ہوں تو اسکول نہیں چل سکتا۔ اگر ایک گاوں کے دو پردھان ہوں تو گاوںکا نظام تلپٹ ہوجائے گا۔ کسی ایک دیش کے دو بادشاہ نہیں ہوسکتے تو اتنی بڑی کائنات کا انتظام ایک سے زیادہ خدا یا مالکوں کے ذریعے کیسے چل سکتا ہے اور دنیا کی منتظم کئی ہستیاں کس طرح ہوسکتی ہیں؟!

ایک دلیل:
قرآن جو اللہ کا کلام ہے، اس نے دنیا کو اپنی حقانیت بتانے کے لیے یہ دعوا کیا ہے کہ
”ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر (قرآن) اتارا ہے، اس میںاگر تم کو شک ہے (کہ قرآن اس مالک کا سچا کلام نہیں ہے )تو اس جیسی ایک سورت ہی (بنا)لے آو اور چاہو تو اس کام کے لیے اللہ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی (مدد کے لیے) بلالو، اگر تم سچے ہو
o “  (ترجمہ القرآن، البقرة ۲:۳۲)
چودہ سو سال سے آج تک دنیا کے قابل ترین ادیب، عالم اور دانش ور تحقیق اور ریسرچ کرکے عاجز ہوچکے اور اپنا سر جھکا چکے ہیں۔ حقیقت میں کوئی بھی اللہ کے اس چیلنج کا جواب نہ دے سکا اور نہ دے سکے گا۔

اس پاک کتاب میں مالک نے ہماری عقل کو اپیل کرنے کے لیے بہت سی دلیلیں دی ہیں۔ ایک مثال یہ ہے کہ :
”اگر زمین اور آسمانوں میں اللہ کے علاوہ مالک و حاکم ہوتے تو ان دونوں میں بڑی خرابی اور فساد مچ جاتا۔“     (ترجمہ القرآن، الانبیاء۱۲:۲۲)
بات صاف ہے۔ اگر ایک کے علاوہ کئی حاکم و مالک ہوتے تو جھگڑاہوتا۔ ایک کہتا: اب رات ہوگی، دوسرا کہتا: دن ہوگا۔ ایک کہتا: چھے مہینے کا دن ہوگا، دوسرا کہتا: تین مہینے کا ہوگا۔ ایک کہتا: سورج آج پچھم سے نکلے گا، دوسرا کہتا: نہیں، پورب سے نکلے گا۔ اگر دیوی دیوتاو ¿ں کو یہ حق واقعی ہوتا اور وہ اللہ کے کاموں میں شریک بھی ہوتے تو کبھی ایسا ہوتا کہ ایک غلام نے پوجا ارچنا کرکے بارش کے دیوتا سے اپنی بات منوالی، تو بڑے مالک کی جانب سے آرڈر آتا کہ ابھی بارش نہیں ہوگی، پھر نیچے والے ہڑتال کردیتے۔ اب لوگ بیٹھے ہیں کہ دن نہیں نکلا، معلوم ہوا کہ سورج دیوتا نے ہڑتال کر رکھی ہے۔
سچی گواہی:
سچ یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز گواہی دے رہی ہے، یہ منظم طریقے پر چلتا ہوا کائنات کا نظام گواہی دے رہا ہے کہ جہان کا مالک اکیلا اور صرف ایک ہے۔وہ جب چاہے اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ اس کو تصورات اور خیالوں میں نہیں باندھا جاسکتا، اس کی تصویر نہیں بنائی جاسکتی۔ اس مالک نے سارے جہان کو انسانوں کے فائدے اور ان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ سورج انسان کا خدمت گار، ہوا انسان کی خادم، یہ زمین بھی انسان کی خدمت گار ہے۔ آگ، پانی، جان دار اور بے جان دنیا کی ہر شے انسان کی خدمت کے لیے بنائی گئی ہے۔ اور مالک نے انسان کو اپنا بندہ بناکر اسے اپنی بندگی اور حکم ماننے کے لیے پیدا کیا ہے، تاکہ وہ اس دنیا کے تمام معاملات صحیح طور سے انجام دے اور ساتھ ہی اس کا مالک و معبود اس سے راضی و خوش ہوجائے۔
انصاف کی بات یہ ہے کہ جب پیدا کرنے والا، زندگی دینے والا، موت دینے والا، کھانا، پانی دینے والا اور زندگی کی ہر ضرورت فراہم کرنے والا وہی ایک ہے تو سچے انسان کو اپنی زندگی اور زندگی سے متعلق تمام معاملات اپنے مالک کی مرضی کے مطابق اس کا فرماں بردار ہوکر پورے کرنے چاہییں۔ اگر کوئی انسان اپنی زندگی اس اکیلے مالک کا حکم مانتے ہوئے نہیں گزار رہا ہے تو صحیح معنوں میں وہ انسان کہلانے کے لائق نہیں۔

ایک بڑی سچائی:
اس سچے مالک نے اپنی سچی کتاب قرآنِ مجید میں بہت سی سچائیوں میں سے ایک سچائی ہم کو یہ بتائی ہے:
”ہر ایک نفس (جان دار) کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاو ¿گے
o “   (ترجمہ القرآن، العنکبوت ۹۲:۷۵)
اس آیت کے دو حصے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ ہر ایک جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ ایسی بات ہے کہ ہر مذہب، ہر طبقے اور ہر جگہ کا آدمی اس بات پر یقین رکھتا ہے، بلکہ جو مذہب کو مانتا بھی نہیں، وہ بھی اس سچائی کے آگے سرجھکاتا ہے اور جان ور تک موت کی سچائی کو سمجھتے ہیں۔ چوہا بلّی کو دیکھتے ہی جان بچا کر بھاگتا ہے اور کتا بھی سڑک پر آتی ہوئی کسی گاڑی کو دیکھ کر اپنے بچاو ¿ کے لیے تیزی سے ہٹ جاتا ہے، اس لیے کہ ان کو سمجھ ہے کہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کی موت یقینی ہے۔

موت کے بعد:
اس آیت کے دوسرے حصے میں قرآنِ مجید ایک اور بڑی سچائی کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے۔ اگر وہ انسان کی سمجھ میں آجائے تو سارے جہان کا ماحول بدل جائے۔ وہ سچائی یہ ہے کہ تم مرنے کے بعد میری ہی طرف لوٹائے جاو ¿گے اور اس دنیا میں جیسا کام کروگے، ویسا ہی بدلہ پاو ¿ گے۔
مرنے کے بعد تم مٹی میں مل جاو ¿گے یا گل سڑجاو ¿ گے اور دوبارہ پیدا نہیں کیے جاو ¿گے، ایسا نہیں ہے۔ نہ ہی یہ سچ ہے کہ مرنے کے بعد تمہاری روح کسی اور جسم میں داخل ہوجائے گی، یہ نظریہ کسی بھی اعتبار سے انسانی عقل کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا۔
پہلی بات یہ ہے کہ آواگمن کا یہ مفروضہ ویدوں میں موجود نہیں ہے۔ بعد کے پرانوں (دیومالائی کہانیوں) میں اس کا بیان ہے۔ اس نظریے کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ شیطان نے مذہب کے نام پر لوگوں کو اونچ نیچ میں جکڑ دیا۔ مذہب کے نام پر شودروں سے خدمت لینے اور ان کو نیچ اور رذیل سمجھنے والے مذہب کے ٹھیکے داروں سے سماج کے دبے کچلے طبقے کے لوگوں نے جب یہ سوال کیا کہ جب ہمارا پیدا کرنے والا خدا ہے اور اس نے سب انسانوں کو آنکھ، کان، ناک ہر چیز میں برابر بنایا ہے تو آپ لوگ اپنے آپ کو اونچا اور ہمیں نیچا اور رذیل کیوں سمجھتے ہیں؟ اس کا انھوں نے آواگمن کا سہارا لے کر یہ جواب دیا کہ تمہاری پچھلی زندگی کے برے کاموں نے تمہیں اس جنم میں نیچ اور رذیل بنایا ہے۔
اس نظریے کے مطابق ساری روحیں دوبارہ پیدا ہوتی ہیں۔ اور اپنے کاموں کے حساب سے جسم بدل بدل کر آتی ہیں۔ زیادہ برے کام کرنے والے لوگ جان وروں کے جسموں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان سے زیادہ برے کام کرنے والے نباتات کے قالب میں چلے جاتے ہیں۔ جن کے کام اچھے ہوتے ہیں، وہ آواگمن کے چکر سے نجات حاصل کرلیتے ہیں۔

آواگمن کے خلاف تین دلائل:
۱-اس سلسلے میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس زمین پر سب سے پہلے نباتات پیدا ہوئیں، پھر جان ور پیدا ہوئے اور اس کے کروڑوں سال بعد انسان کی پیدائش ہوئی۔ اب جب کہ انسان ابھی اس زمین پر پیدا ہی نہیں ہوا تھا اور کسی انسانی روح نے ابھی برا کام ہی نہیں کےا تھا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس کی روحیں تھیں، جنھوں نے ان گنت بے حدوحساب جان وروں اور پیڑ پودوں کی صورت میں جنم لیا؟ ۲-دوسری بات یہ ہے کہ اس نظریے کو مان لینے کے بعد تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ زمین پر جان داروں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہوتی۔ جو روحیں آواگون سے نجات حاصل کرلیتیں، ان کی تعداد کم ہوتی رہنی چاہیے تھی، جب کہ یہ حقیقت ہمارے سامنے ہے کہ زمین پر انسانوں، جان وروں اور نباتات ہر قسم کے جان داروں کی تعداد میں لگاتار بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔ ۳- تیسری بات یہ ہے کہ اس دنیا میں پیدا ہونے والوں اور مرنے والوں کی تعداد میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ مرنے والوں کے مقابلے میں پیدا ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ کھرب ہا کھرب ان گنت مچھر پیدا ہوجاتے ہیں، جب کہ مرنے والے اس سے بہت کم ہوتے ہیں۔
کبھی اپنے دیش میں کچھ بچوں کے بارے میں یہ مشہور ہوجاتا ہے کہ وہ اس جگہ کو پہچان رہا ہے، جہاں وہ پچھلے جنم میں رہتا تھا، اپنا پرانا نام بھی بتارہا ہے۔ اور یہ بھی کہ اس نے دوبارہ جنم لیا ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ ان تمام باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیںہوتا۔ اس قسم کی چیزیں مختلف قسم کی نفسیاتی و دماغی امراض یاروحانی و سماجی و ماحولیاتی ردعمل کا نتیجہ ہوتی ہیں، جس کا مناسب انداز میں علاج کرایا جانا چاہیے۔ اصل حقیقت سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ یہ سچائی مرنے کے بعد ہر انسان کے سامنے آجائے گی کہ انسان مرنے کے بعد اپنے پیدا کرنے والے مالک کے پاس جاتا ہے، او ر اس نے اس جہان میں جیسے اچھے برے کام کیے ہوں گے، اس کے حساب سے قیامت میں سزا یا اچھا بدلہ پائے گا۔

اعمال کا پھل ملے گا:
اگر انسان اپنے رب کی عبادت اور اس کی بات مانتے ہوئے اچھے کام کرے گا، بھلائی اور نیکی کے راستے پر چلے گا تو وہ اپنے رب کے فضل سے جنت میں جائے گا۔ جنت جہاں آرام کی ہر چیز ہے، بلکہ وہاں تو عیش و آرام کی ایسی چیزیں بھی ہیں، جن کو اس دنیا میں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں ان کا خیال گزرا۔ اور سب سے بڑی جنت کی نعمت یہ ہوگی کہ جنتی لوگ وہاں اپنی آنکھوں سے اپنے رب کا دیدار کرسکیں گے، جس کے برابر آنند اور مسرت کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔
اسی طرح جو لوگ برے کام کریں گے، اپنے رب کی خدائی میں دوسروں کو شریک کریں گے اور سرکشی کرکے اپنے مالک کی نافرمانی کریں گے، وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ وہ وہاں آگ میں جلیں گے۔ وہاں انہیں ان کے گناہوں اور جرموں کی سزا ملے گی۔ اور سب سے بڑی سزا یہ ہوگی کہ وہ اپنے مالک کے دیدار سے محروم رہ جائیں گے اور ان پر اُن کے مالک کا دردناک عذاب ہوگا۔

رب کا شریک بنانا سب سے بڑا گناہ ہے:
اس سچے اصلی مالک نے اپنی کتاب قرآن میں ہمیں بتایا ہے کہ نیکیاں اور اچھے کام چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور بڑے بھی، اسی طرح اس مالک کے یہاں جرم و گناہ اور برے کام بھی چھوٹے بڑے ہوتے ہیں۔ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ جو جرم و گناہ انسان کو سب سے زیادہ اور سب سے بھیانک سزا کا حق دار بناتا ہے، جس کو وہ کبھی معاف نہیں کرے گا اور جس کا کرنے والا ہمیشہ ہمیش جہنم میں جلتا رہے گا۔ وہ جہنم سے باہر نہیں جاسکے گا، وہ موت کی تمنا کرے گا، لیکن اس کو موت کبھی نہیں آئے گی۔ وہ جرم اس اکیلے رب کی ذات یا اس کی صفات و اختیارات میں کسی کو شریک بنانا ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے کے آگے اپنے سر یا ماتھے کو ٹیکنا ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور کو پوجا کے قابل ماننا، مارنے والا، زندہ کرنے والا، روزی دینے والا اور نفع و نقصان کا مالک سمجھنا بہت بڑا گناہ اور انتہائی درجے کا ظلم ہے، چاہے ایسا کسی دیوی دیوتا کو مانا جائے یا سورج چاند، ستارے یا کسی پیر فقیر کو، کسی کو بھی اس مالک کی ذات یا صفات و اختیارات میں برابر یا شریک سمجھنا شرک ہے، جس کو وہ مالک کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ کسی بھی گناہ کو اگر وہ چاہے تو معاف کردے گا۔ اس گناہ کو خود ہماری عقل بھی اتنا ہی برا سمجھتی ہے اور ہم بھی اس عمل کو اتنا ہی ناپسند کرتے ہیں۔
ایک مثال:
مثال کے طور پر اگر کسی کی بیوی بڑی نک چڑھی ہو، ذرا ذرا سی بات پر جھگڑے پر اتر آتی ہو، کچھ کہنا سننا نہیں مانتی ہو، لیکن وہ اگر اس سے گھر سے نکلنے کو کہہ دے تو وہ کہتی ہے کہ میں صرف تیری ہوں، تیری رہوں گی، تیرے دروازے پر مروں گی اور ایک پل کے لیے تیرے گھر سے باہر نہیں جاو ¿ں گی تو شوہر لاکھ غصے کے بعد بھی اس سے نبھانے کے لیے مجبور ہوجائے گا۔
اس کے برخلاف اگر کسی کی بیوی نہایت خدمت گزار اور حکم کی پابند ہو، وہ ہر وقت اس کا خیال رکھتی ہو، شوہر آدھی رات کو گھر پر آتا ہو تو اس کا انتظار کرتی رہتی ہو، اس کے لیے کھانا گرم کرکے اس کے سامنے پیش کرتی ہو، اس سے پیار ومحبت کی باتیں بھی کرتی ہو، وہ ایک دن اس سے کہنے لگے کہ آپ میرے شریکِ حیات ہیں، لیکن میرا اکیلے آپ سے کام نہیں چلتا، اس لیے اپنے فلاں پڑوسی کو بھی میں نے آج سے اپنا شوہر بنالیاہے تو اگر اس کے شوہر میں کچھ بھی غیرت کا مادہ ہے تو وہ یہ برداشت نہیں کرپائے گا۔ وہ ایک پل کے لیے ایسی احسان فراموش بے حیا عورت کو اپنے پاس رکھنا پسند نہ کرے گا۔
آخر ایسا کیوں ہے؟ صرف اس لیے کہ کوئی شوہر اپنے مخصوص شوہرانہ حقوق میں کسی کو شریک دیکھنا نہیں چاہتا۔ آپ نطفے کی ایک بوند سے بنی اولاد میں کسی اور کو اپنا شریک بنانا پسند نہےں کرتے، تو وہ مالک جو انتہائی حقیر بوند سے انسان کو پیدا کرتا ہے، وہ کیسے یہ برداشت کرلے گا کہ اس کا پیدا کردہ انسان اس کے ساتھ کسی اور کو اس کا شریک بنائے۔ اس کے ساتھ کسی اور کی بھی عبادت کی جائے اور بات مانی جائے، جب کہ اس پورے جہان میں جس کو جو کچھ دیا ہے، اسی نے عطا کیا ہے۔ جس طرح ایک طوائف اپنی عزت و آبرو بیچ کر ہر آنے والے آدمی کو اپنے اوپر قبضہ دے دیتی ہے تو اس کی وجہ سے وہ ہماری نظروں سے گری ہوئی رہتی ہے، وہ آدمی اپنے مالک کی نظروں میں اس سے زیادہ نیچ اور گرا ہوا ہے، جو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی عبادت میں مست ہو، چاہے وہ کوئی دیوتا ہو یا فرشتہ، جن ہو یا انسان ، بت ہو یا مورتی، قبرہو یا استھان یا کوئی دوسری خیالی یا حقیقی شے۔

قرآنِ پاک میں مورتی پوجا کی مخالفت:
مورتی پوجا کے لیے قرآنِ مجید میں ایک مثال پیش کی گئی ہے، جو غور کرنے کے قابل ہے:
”اللہ کو چھوڑ کر تم جن (مورتی، قبرواستھان والوں) کو پکارتے ہو، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔( پیدا کرناتو دور کی بات ہے)، اگر مکھی ان کے سامنے سے کوئی چیز (پرساد وغیرہ) چھین لے جائے تو اسے واپس بھی نہیں لے سکتے۔ طلب کرنے والا اور جس سے طلب کیا جارہا ہے، دونوں کتنے کم زور ہیں
o اور انھوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی، جیسی کرنی چاہیے تھی، بلاشبہہ اللہ طاقت ور اور زبردست ہےo “  (ترجمہ القرآن، الحج ۲۲:۳۷-۴۷)
کتنی اچھی مثال ہے۔ بنانے والا تو خود اللہ ہے۔ اپنے ہاتھوں سے بنائی گئی مورتیوں اور بتوں کے بنانے والے غافل انسان ہیں۔ اگر ان مورتیوں میں تھوڑی بہت سمجھ ہوتی تو وہ انسانوں کی عبادت کرتیں۔

ایک بودا خیال:
کچھ لوگوں کا ماننا یہ ہے کہ ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ انھوں نے ہی ہمیں مالک کا راستہ دکھایا اور ان کے وسیلے سے ہم مالک کی عنایت حاصل کرتے ہیں۔ یہ بالکل ایسی بات ہوئی کہ کوئی قلی سے ٹرین کے بارے میں معلوم کرے اور جب قلی اسے ٹرین کے بارے میں معلومات دے دے تو وہ ٹرین کی جگہ قلی پر ہی سوار ہوجائے، کہ اس نے ہی ہمیں ٹرین کے بارے میں بتایاہے۔ اسی طرح اللہ کی صحیح سمت اور راستہ بتانے والے کی عبادت کرنا بالکل ایسا ہے، جیسے ٹرین کو چھوڑ کر قلی پر سوار ہوجانا۔
کچھ بھائی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم صرف دھیان جمانے اور توجہ مرکوز کرنے کے لیے ان مورتیوں کو رکھتے ہیں۔ یہ بھی خوب رہی کہ خوب غور سے کسی کھمبے کو دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم تو صرف والد صاحب کا دھیان جمانے کے لیے کھمبے کو دیکھ رہے ہیں! کہاں والد صاحب اور کہاں کھمبا؟ کہاں یہ کم زور مورتی اور کہاں وہ انتہائی زبردست، رحیم و کریم مالک! اس سے دھیان بندھے گا یا بٹے گا؟
خلاصہ یہ ہے کہ کسی بھی طرح سے کسی کو بھی اللہ کا شریک ماننا سب سے بڑا گناہ ہے، جس کو وہ کبھی بھی معاف نہیں کرے گا اور ایسا آدمی ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بنے گا۔

سب سے بڑی نیکی ایمان ہے:
اسی طرح سب سے بڑی بھلائی اور نیکی”ایمان“ ہے، جس کے بارے میں دنیا کے تمام مذہب والے یہ کہتے ہیں کہ سب کچھ یہیں چھوڑ جانا ہے، مرنے کے بعد آدمی کے ساتھ صرف ایمان جائے گا۔ ایمان داری یا ایمان والا اس کو کہتے ہیں، جو حق والے کو حق دینے والا ہو، اس کے برخلاف حق مارنے والے کو ظالم کہتے ہیں۔ اس انسان پر سب سے بڑا حق اس کے پیدا کرنے والے کا ہے۔ وہ یہ کہ سب کو پیدا کرنے والا، موت و زندگی دینے والا مالک، رب اور عبادت کے لائق صرف اکیلا اللہ ہے تو پھر اسی کی عبادت کی جائے، اسی کو مالک، نفع و نقصان، عزت و ذلت دینے والا سمجھا جائے اور اس کی دی ہوئی زندگی اسی کی مرضی اور اطاعت کے مطابق بسر کی جائے، اسی کو مانا جائے اور اسی کی مانی جائے۔ اسی کا نام ایمان ہے۔ صرف اسی ایک کو مالک مانے بغیر، اور اس کی تابع داری کیے بغیر انسان ایمان دار یعنی ایمان والا نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ بے ایمان اور کافر کہلائے گا۔
مالک کا سب سے بڑا حق مار کر لوگوں کے سامنے اپنی ایمان داری جتانا ایسا ہی ہے کہ ایک ڈاکو بہت بڑی ڈکیتی سے مال دار بن جائے اور پھر دوکان پر لالہ جی سے کہے کہ آپ کا ایک روپیہ میرے پاس حساب میں زیادہ آگیا ہے، آپ لے لیجیے۔ اتنا مال لوٹنے کے بعد ایک روپیے کا حساب دینا جیسی ایمان داری ہے، اپنے مالک کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا اس سے بھی بدتر ایمان داری ہے۔
ایمان صرف یہ ہے کہ انسان اپنے مالک کو اکیلا مانے، اس اکیلے کی عبادت کرے اور زندگی کی ہر گھڑی کو مالک کی مرضی اور اس کے حکم کے مطابق بسر کرے۔ اس کی دی ہوئی زندگی کو اس کی مرضی کے مطابق گزارنا ہی دین کہلاتا ہے۔ اور اس کے احکامات کو ٹھکرا دینا بے دینی۔

سچا دین:
سچا دین شروع سے ہی ایک ہے اور اس کی تعلیم ہے کہ اس اکیلے ہی کو مانا جائے اور اسی کا حکم بھی مانا جائے، اللہ نے قرآنِ مجید میں کہا ہے:
”دین تو اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔“
(ترجمہ القرآن، آل عمران
۳:۹۱)
”اسلام کے علاوہ جو بھی کسی اور دین کو اختیار کرے گا، وہ ناقابلِ قبول ہوگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا
o
(ترجمہ القرآن، آل عمران
۳: ۵۸)
انسان کی کم زوری ہے کہ اس کی نظر ایک مخصوص حد تک دیکھ سکتی ہے۔ اس کے کان ایک حد تک سن سکتے ہیں، اس کے سونگھنے، چکھنے اور چھونے کی قوت بھی محدودہے۔ ان پانچ حواس سے اس کی عقل کو معلومات فراہم ہوتی ہے، اسی طرح عقل کی رسائی کی بھی ایک حد ہے۔
وہ مالک کس طرح کی زندگی پسند کرتا ہے؟ اس کی عبادت کس طرح کی جائے؟ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ جنت کن لوگوں کو ملے گی؟ وہ کون سے کام ہیں، جن کے نتیجے میں انسان جہنم میں جائے گا؟اس سب کا پتا انسانی عقل ، فہم اور علم سے نہیں لگایا جاسکتا۔

پیغمبر:
انسان کی اس کم زوری پر رحم کرکے اس کے رب نے اپنے بندوں میں سے ان عظیم انسانوں پر جن کو اس نے اس ذمے داری کے قابل سمجھا، اپنے فرشتوں کے ذریعے ان پر اپنا پیغام نازل کیا، جنھوں نے انسان کو زندگی بسر کرنے اور بندگی کے طور طریقے بتائے اور زندگی کی وہ حقیقتیں بتائیں، جو وہ اپنی عقل کی بنیاد پر نہیں سمجھ سکتا تھا۔ ایسے بزرگ اور عظیم انسان کو نبی، رسول یا پیغمبر کہا جاتا ہے۔ اسے اوتار بھی کہہ سکتے ہیں، بشرطے کہ اوتار کا مطلب ہو ”وہ انسان جس کو اللہ نے انسانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے منتخب کیا ہو۔“ لیکن آج کل اوتار کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ خدا انسان کی صورت میں زمین پر اترا ہے۔ یہ فضول خیال اور اندھی عقیدت ہے۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اس باطل تصور نے انسان کو ایک مالک کی عبادت سے ہٹا کر اسے مورتی پوجا کی دلدل میں پھنسا دیا۔
وہ عظیم انسان جن کو اللہ نے لوگوں کو سچا راستہ بتانے کے لیے چنا اور جن کو نبی اور رسول کہا گیا، ہر قوم میں آتے رہے ہیں۔ ان سب نے لوگوں کو ایک اللہ کو ماننے، صرف اسی اکیلے کی عبادت کرنے اور اس کی مرضی سے زندگی گزارنے کا جو طریقہ (شریعت یا مذہبی قانون) وہ لائے، اس کی پابندی کرنے کو کہا۔ ان میں سے کسی رسول نے بھی ایک اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کی دعوت نہیں دی، بلکہ انھوں نے اس کو سب سے بھیانک اور بڑا جرم قرار دیتے ہوئے سب سے زیادہ اسی گناہ سے روکا۔ ان کی باتوں پر لوگوں نے یقین کیا اور سچے راستوں پر چلنے لگے۔

مورتی پوجا کی ابتدا:
ایسے تمام پیغمبر اور ان کے ماننے والے لوگ نیک انسان تھے، ان کو موت آنی تھی (جس کو موت نہیں، وہ صرف اللہ ہے)۔ نبی یا رسول یا نیک لوگوں (بزرگوں) کی موت کے بعد ان کے ماننے والوں کو ان کی یاد آئی اور وہ ان کی یاد میں بہت روتے تھے۔ شیطان کو موقع مل گیا۔ وہ انسان کا دشمن ہے اور انسان کے امتحان کے لیے مالک اللہ نے اس کو بہکانے اور بری باتیں انسان کے دل میں ڈالنے کی ہمت دی ہے کہ دیکھیں کون اس پیدا کرنے والے مالک کو مانتا ہے اور کون شیطان کو مانتا ہے۔
شیطان لوگوں کے پاس آیا اور کہا کہ تمہیں اپنے رسول یا نبی یا بزرگوں سے بڑی محبت ہے۔ مرنے کے بعد وہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں، یہ سب اللہ کے چہیتے بندے ہیں، اللہ ان کی بات نہیں ٹالتا ہے، اس لیے میں ان کی ایک مورتی بنادیتا ہوں، اس کو دیکھ کر تم سکون پاسکتے ہو۔ شیطان نے مورتی بنائی۔ جب ان کا دل چاہتا، وہ اسے دیکھا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ جب اس مورتی کی محبت ان کے دل میں بس گئی تو شیطان نے کہا کہ یہ رسول، نبی و بزرگ اللہ سے بہت قریب ہیں، اگر تم ان کی مورتی کے آگے اپنا سر جھکاو ¿ گے تو اپنے کو خدا کے قریب پاو ¿ گے اور اللہ تمہاری بات مان لے گا، یا تم خدا سے قریب ہوجاو ¿گے۔ انسان کے دل میں مورتی کی محبت پہلے ہی گھر کرچکی تھی، اس لیے اس نے مورتی کے آگے سر جھکانا اور اسے پوجنا شروع کردیا اور وہ انسان جس کی عبادت کے لائق صرف ایک اللہ تھا، مورتیوں کو پوجنے لگا اور شرک میں پھنس گیا۔
انسان جسے اللہ نے زمین پر خلیفہ بنایا تھا، جب اللہ کے علاوہ دوسروں کے آگے جھکنے لگا تو اپنی اور دوسروں کی نظروں میں ذلیل وخوار ہوا اور مالک کی نظروں سے گر کر ہمیشہ کے لیے دوزخ اس کا ٹھکانا بن گیا۔ اس کے بعد اللہ نے پھر اپنے رسول بھیجے، جنھوں نے لوگوں کو مورتی پوجا ہی نہیں، ہر قسم کے شرک اور ظلم و ستم سے تعلق رکھنے والی برائیوں اور اخلاقی خرابیوں سے روکا، کچھ لوگوں نے ان کی بات مانی، اور کچھ لوگوں نے ان کی نافرمانی کی۔ جن لوگوں نے بات مانی، اللہ ان سے خوش ہوا، اور جن لوگوں نے ان کی ہدایت اور نصیحتوں کی خلاف ورزی کی، اللہ کی جانب سے دنیا ہی میں ان کو تباہ و برباد کردینے والے فیصلے کیے گئے۔

رسولوں کی تعلیم:
ایک کے بعد ایک نبی اور رسول آتے رہے، ان کے دین کی بنیاد ایک ہوتی، وہ ایک دین کی طرف بلاتے کہ ایک اللہ کو مانو، کسی کو اس کی ذات اور صفات و اختیارات میں شریک نہ ٹھہراو ¿، اس کی عبادت و اطاعت میں کسی کو شریک نہ کرو، اس کے سب رسولوں کو سچا جانو، اس کے فرشتے جو اس کے بندے اور پاک مخلوق ہیں، جو نہ کھاتے پیتے ہیں، نہ سوتے ہیں، ہر کام میںمالک کی فرماں برداری کرتے ہیں، اس کی نافرمانی نہیںکرسکتے، وہ اللہ کی خدائی یا اس کے معاملات میں ذرہ برابر بھی دخیل نہیں ہیں، ان کی اس حیثیت کو تسلیم کرو۔ اس نے اپنے فرشتوں کے ذریعے سے اپنے رسولوں و نبیوں پر جو وحی بھیجی یا کتابیں نازل کیں، ان سب کو سچا جانو، مرنے کے بعد دوبارہ زندگی پاکر اپنے اچھے برے کاموں کا بدلہ پانا ہے، اس پر یقین کے ساتھ اسے برحق جانو اور یہ بھی مانو کہ جو کچھ تقدیر میں اچھا یا برا ہے، وہ مالک کی طرف سے ہے اور رسول اس وقت اللہ کی جانب سے جو شریعت اور زندگی گزارنے کا طریقے لے کر آیا ہے، اس پر چلو اور جن برائیوں اور حرام کاموں اور چیزوں سے اس نے منع کیا، ان کو نہ کرو۔
جتنے اللہ کے نبی اور رسول آئے، سب سچے تھے اور ان پر جو مقدس کلام نازل ہوا، وہ سب سچا تھا۔ ان سب پر ہمارا ایمان ہے اور ہم ان میں فرق نہیں کرتے۔ حق بات تو یہ ہے کہ جنھوں نے ایک اللہ کو ماننے کی دعوت دی ہو، ان کی تعلیمات میں ایک مالک کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا ہی نہیں خود اپنی پوجا کی بھی بات نہ ہو، ان کے سچے ہونے میں کیا کلام ہوسکتا ہے؟ البتہ جن مہاپرشوں کے یہاں مورتی پوجا یا بہت سے معبودوں کی عبادت کی تعلیم ملتی ہے،یا تو ان کی تعلیمات میں ردوبدل کردی گئی یا وہ رسول ہی نہیں ہیں۔ محمد ﷺ سے پہلے کے تمام رسولوں کی زندگی کے حالات میں ردوبدل کردیا گیا ہے اور ان کی تعلیمات کے بڑے حصے کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔

آخری پیغمبر محمد ﷺ:
یہ ایک بیش قیمت سچ ہے کہ ہر آنے والے رسول اور نبی کی زبان سے اور اس پر اللہ کی جانب سے اتارے گئے صحیفوں میں ایک آخری نبی کی پیشین گوئی کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ان کے آنے کے بعد اور ان کو پہچان لینے کے بعد ساری پرانی شریعتیں اور مذہبی قانون چھوڑ کر ان کی بات مانی جائے اور ان کے ذریعے لائے گئے آخری کلام اور مکمل دین پر چلا جائے۔ یہ بھی اسلام کی حقانیت کا ثبوت ہے کہ پچھلی کتابوں میں انتہائی ردوبدل کے باوجود اس مالک نے آخری رسول محمد ﷺ کے آنے کی خبر کو تبدیل نہ ہونے دیا، تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو خبر ہی نہ تھی۔ ویدوں میں اس کا نام نراشنس، پرانوں میں کلکی اوتار، بائبل میں فارقلیط اور بودھ گرنتھوں میں آخری بدھ وغیرہ لکھا گیا ہے۔
ان مذہبی کتب میں محمد ﷺ کے علاقہ ¿ پیدائش، زمانہ ¿ پیدائش اور ان کی صفات و خوبیوں وغیرہ کے بارے میں واضح اشارے دیے گئے ہیں۔

محمد ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا تعارف:
اب سے تقریباً ساڑھے چودہ سو برس پہلے وہ آخری نبی و رسول محمد رسول ﷺ سعودی عرب کے مشہور شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ پیدائش سے چند مہینے پہلے ہی آپ کے والد عبداللہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ والدہ آمنہ بھی کچھ زیادہ دن زندہ نہیں رہیں۔ پہلے دادا عبدالمطلب اور ان کی وفات کے بعد آپ کے چچا ابوطالب نے انہیں پالا۔ آپ اپنی خوبیوں اور نیکیوں کی بدولت جلد ہی تمام مکہ شہر کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ جیسے جیسے آپ بڑے ہوتے گئے، آپ سے لوگوں کی محبت بڑھتی گئی۔ آپ کو سچا اور ایمان دار کہا جانے لگا۔ لوگ حفاظت کے لیے اپنی بیش قیمتی امانتیں آپ کے پاس رکھتے۔ اپنے آپسی جھگڑوں کا فیصلہ کراتے۔ لوگ محمد ﷺ کو ہر اچھے کام میں آگے پاتے۔ آپ اپنے وطن میں ہوں یا سفر پر، سب لوگ آپ کی خوبیوں کے معترف ہوتے۔
ان دنوں وہاں اللہ کے گھر کعبہ میں
۰۶۳ بت ، دیوی دیوتاو ¿ں کی مورتیاں رکھی ہوئی تھیں۔ پورے عرب دیش میں شرک و کفر کے علاوہ قتل و غارت گری، لوٹ مار، غلاموں اور عورتوں کی حق تلفی، اونچ نیچ، دغا و فریب، شراب، جوا، سود، بے بنیاد جنگ، زنا جیسی جانے کتنی برائیاں پھیلی ہوئی تھیں۔
محمد ﷺ جب
۰۴ برس کے ہوئے تو اللہ نے اپنے فرشتے جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے آپ پر قرآن نازل کرنا شروع کیا اور آپ کو رسول بنانے کی خوش خبری دی اور لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کی طرف بلانے کی ذمے داری سپرد کی۔
سچ کی آواز:
اللہ کے رسول محمد ﷺ نے ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر خطرے سے باخبر کرنے کے لیے آوازلگائی۔ لوگ اس آواز پر تیزی کے ساتھ جمع ہوگئے، اس لیے کہ یہ ایک سچے ایمان دار آدمی کی آواز تھی۔ آپ نے سوال کیا:اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک بہت بڑی فوج چلی آرہی ہے اور تم پر حملہ کرنے والی ہے، تو کیا تم یقین کرو گے؟
سب نے ایک آواز ہوکر کہا: بھلا آپ کی بات پر کون یقین نہیں کرے گا! آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے اور ہمارے مقابلے پہاڑ کی چوٹی سے دوسری طرف دیکھ بھی رہے ہیں۔ آپ نے جہنم کی بھیانک آگ سے ڈراتے ہوئے انہیں شرک و بت پرستی سے روکا اور ایک اللہ کی عبادت اور اطاعت یعنی اسلام کی طرف بلایا۔

انسان کی ایک کم زوری:
انسان کی یہ کم زوری رہی ہے کہ وہ اپنے باپ دادا اور بزرگوں کی غلط باتوں کو بھی آنکھ بند کرکے مانتا چلا جاتا ہے،چاہے ان کی عقلیں اور دلائل ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہوں، لیکن اس کے باوجود انسان خان دانی باتوں پر جما رہتا ہے اور اس کے خلاف عمل تو کیا، کچھ سننا بھی گوارا نہیں کرتا۔
رکاوٹیں اور آزمائش:
یہی وجہ تھی کہ چالیس برس کی عمر تک محمد ﷺ کا احترام کرنے اور سچا ماننے اور جاننے کے باوجود مکہ کے لوگ رسول کی حیثیت سے اللہ کی جانب سے لائی گئی آپ کی تعلیمات کے دشمن ہوگئے۔ آپ جتنا زیادہ لوگوں کو سب سے بڑی سچائی، شرک کے خلاف توحید کی طرف بلاتے، لوگ اتنا ہی آپ کے ساتھ دشمنی کرتے۔ کچھ لوگ اس سچائی کو ماننے والوں اور آپ کا ساتھ دینے والوں کو ستاتے، مارتے، اور دہکتے ہوئے آگ کے انگاروں پر لٹا دیتے۔ گلے میں پھندا ڈال کر گھسیٹتے، اور ان کو پتھروں اور کوڑوں سے مارتے، لیکن آپ سب کے لیے اللہ سے دعا مانگتے، کسی سے بدلہ و انتقام نہیں لیتے، ساری ساری رات اپنے مالک سے ان کے لیے ہدایت کی دعا کرتے۔ ایک بار آپ مکہ کے لوگوں سے مایوس ہوکر قریبی شہر طائف گئے۔ وہاں کے لوگوں نے اس عظیم انسان کی توہین کی۔ آپ کے پیچھے شریر لڑکے لگادیے، جو آپ کو برا بھلا کہتے۔
انھوں نے آپ کو پتھر مارے، جس کی وجہ سے آپ کے پیروں سے خون بہنے لگا۔ تکلیف کی وجہ سے جب آپ کہیں بیٹھ جاتے تو وہ لڑکے آپ کو دوبارہ کھڑا کردیتے، اور پھر مارتے۔ اس حال میں آپ شہر سے باہر نکل کر ایک جگہ پر بیٹھ گئے۔ آپ نے انہیں بددعا نہیں دی، بلکہ اپنے مالک سے دعا کی: ”اے مالک! ان کو سمجھ دے دے، یہ جانتے نہیں۔“ اس پاک کلام اور وحی پہنچانے کی وجہ سے آپ کا اور آپ کا ساتھ دینے والے خان دان اور قبیلے کا سماجی بائی کاٹ کیا گیا۔ اس پر بھی بس نہ چلاتو آپ کے قتل کے منصوبے بنائے گئے، آخر کاراللہ کے حکم سے آپ کو اپنا پیارا شہر مکہ چھوڑکر مدینہ جانا پڑا۔ وہاں بھی مکہ والے فوجیں تیار کرکے بار بار آپ سے جنگ کرنے کے لیے دھاوا بولتے رہے۔

حق کی فتح:
سچائی کی ہمیشہ دیر یا سویر فتح ہوتی ہے، ۳۲ سال کی سخت مشقت کے بعد آپ نے سب کے دلوں پر فتح پائی اور سچائی کے راستے کی جانب آپ کی بے لوث دعوت نے پورے ملک عرب کو اسلام کی ٹھنڈی چھاو ¿ں میں لاکھڑا کیا۔ اس طرح اس وقت کی معلوم دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ بت پرستی بند ہوئی، اونچ نیچ ختم ہوگئی اور سب لوگ ایک اللہ کو ماننے اور اسی کی عبادت و اطاعت کرنے والے اور ایک دوسرے کو بھائی جان کر ان کا حق ادا کرنے والے ہوگئے۔
آخری وصیت:
اپنی وفات سے کچھ ہی مہینے پہلے آپ نے تقریباً سوا لاکھ لوگوں کے ساتھ حج کیا اور تمام لوگوں کو اپنی آخری وصیت کی، جس میں آپ نے یہ بھی کہا: لوگو! مرنے کے بعد قیامت میں حساب کتاب کے دن میرے بارے میں بھی تم سے پوچھا جائے گا، کہ کیا میں نے اللہ کا پیغام اور اس کا دین تم تک پہنچایا تھا، تو تم کیا جواب دوگے؟ سب نے کہا: بے شک آپ نے اسے مکمل طور سے پہنچا دیا، اس کا حق ادا کردیا۔ آپ نے آسمان کی جانب انگلی اٹھائی اور تین بار کہا: اے اللہ! آپ گواہ رہیے، آپ گواہ رہیے، آپ گواہ رہیے۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں سے فرمایا: یہ سچا دین جن تک پہنچ چکا ہے، وہ ان کو پہنچائیں، جن کے پاس نہیں پہنچا ہے۔
آپ نے یہ بھی خبر دی کہ میں آخری رسول ہوں۔ اب میرے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔ میں ہی وہ آخری نبی ہوں، جس کا تم انتظار کررہے تھے اور جس کے بارے میں تم سب کچھ جانتے ہو۔

قرآن میں ہے:
”جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس (پیغمبر محمد ) کو ایسے پہچانتے ہیں، جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔اگرچہ ان میں کا ایک گروہ حق کو جانتے بوجھتے چھپاتا ہےo “                   (ترجمہ القرآن، البقرة ۲:۶۴۱) ہر انسان کی ذمے داری:
اب قیامت تک آنے والے ہر انسان پر یہ لازم ہے اور یہ اس کا مذہبی اور انسانی فریضہ ہے کہ وہ اس اکیلے مالک کی بندگی کرے، اسی کی اطاعت کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، قیامت اور دوبارہ اٹھائے جانے، حساب کتاب، جنت و جہنم کو صحیح تسلیم کرے اور اس بات کو مانے کہ آخرت میں اللہ ہی مالک و مختار ہوگا، وہاں بھی اس کا کوئی شریک نہ ہوگا اور اس کے آخری پیغمبر محمد ﷺ کو سچا جانے اور ان کے لائے ہوئے دین اور زندگی گزارنے کے طور طریقوں پر چلے۔ اسلام میں اسی کو ایمان کہا گیا ہے۔ اس کو مانے بغیر مرنے کے بعد قیامت میں ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا۔
کچھ اشکالات:
یہاں کسی کے ذہن میں کچھ سوال پیدا ہوسکتے ہیں۔ مرنے کے بعد جنت یا دوزخ میں جانا دکھائی تو دیتا نہیں، اسے کیوں مانیں؟
اس سلسلے میں یہ جان لینا مناسب ہوگا کہ تمام الہامی کتابوں میں جنت اور دوزخ کا حال بیان کیا گیا ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت و دوزخ کا تصور تمام الہامی مذاہب میں مسلّم ہے۔
اسے ہم ایک مثال سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، اگر اس سے کہا جائے کہ جب تم باہر آو ¿گے تو دودھ پیوگے اور باہر آکر تم بہت سے لوگوں اور بہت سی چیزوں کو دیکھو گے، تو حالتِ حمل میں اسے یقین نہیں آئے گا، مگر جیسے ہی وہ حالتِ حمل سے باہر آئے گا، تب سب چیزوں کو اپنے سامنے پائے گا۔ اسی طرح یہ تمام جہان ایک حمل کی حالت میں ہے، یہاں سے موت کے بعد نکل کر جب انسان آخرت کے جہان میں آنکھیں کھولے گا تو سب کچھ اپنے سامنے پائے گا۔
وہاں کی جنت و دوزخ اور دوسری حقیقتوں کی خبر ہمیں اس سچے شخص نے دی ہے، جس کو اس کے جانی دشمن بھی کبھی دل سے جھوٹا نہ کہہ سکے، اور قرآن جیسی کتاب نے دی ہے، جس کی سچائی ہر اپنے پرائے نے مانی ہے۔

دوسرا سوال:
دوسری چیز جو کسی کے دل میں کھٹک سکتی ہے، وہ یہ کہ جب تمام رسول، ان کالایا ہوا دین اور الہامی صحائف سچے ہیں تو پھر اسلام قبول کرنا کیا ضروری ہے؟
آج کی موجودہ دنیا میں اس کا جواب بالکل آسان ہے۔ ہمارے ملک کی ایک پارلیمنٹ ہے، یہاں کا ایک منظور شدہ دستور(
constitution ) ہے۔ یہاں جتنے وزیر اعظم ہوئے، وہ سب ہندوستان کے حقیقی وزیراعظم تھے۔ پنڈت جواہر لال نہرو، شاستری جی، اندرا گاندھی، چرن سنگھ، راجیو گاندھی، وی پی سنگھ وغیرہ۔ ملک کی ضرورت اور وقت کے مطابق جو دستوری ترمیمات اور قوانین انھوں نے پاس کیں، وہ سب بھارت کے دستور اور قانون کا حصہ ہیں، اس کے باوجود اب جو موجودہ وزیر اعظم ہیں، ان کی کابینہ اور سرکار دستور یا قانون میں جو بھی ترمیم کرے گی، اس سے پرانی دستوری دفعہ اور پرانا قانون ختم ہوجائے گا اور بھارت کے ہر شہری کے لیے ضروری ہوگا کہ اس نئے ترمیم شدہ دستور و قانون کو مانے۔ اس کے بعد کوئی ہندوستانی شہری یہ کہے کہ اندرا گاندھی اصلی وزیراعظم تھیں، میں تو ان کے ہی وقت کے دستور و قانون کو مانوں گا، اس نئے وزیر اعظم کے ترمیم شدہ دستور و قانون کو میں نہیں مانتا اور نہ ان کے ذریعے لگائے گئے ٹیکس دوں گا تو ایسے شخص کو ہر کوئی ملک کا مخالف کہے گا اور اسے سزا کا مستحق سمجھا جائے گا۔ اسی طرح تمام الہامی مذاہب، اورالٰہی کتابوں میں اپنے وقت میں حق اورسچائی کی تعلیم دی جاتی تھی، لیکن اب تمام رسولوں اور الہامی کتابوں کو سچا مانتے ہوئے بھی سب سے آخری رسول محمد ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی لائی ہوئی آخری کتاب و شریعت پر عمل کرنا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔
سچا دین صرف ایک ہے:
اس لیے یہ کہنا کسی طرح مناسب نہیں کہ تمام مذاہب خدا کی طرف لے جاتے ہیں۔ راستے الگ الگ ہیں، منزل ایک ہے۔ سچ صرف ایک ہوتا ہے۔ جھوٹ بہت ہوسکتے ہیں۔ نور ایک ہوتا ہے، اندھیرے بہت ہوسکتے ہیں۔ سچا دین صرف ایک ہے۔ وہ شروع ہی سے ایک ہے، اس لیے اس ایک کو ماننا اور اسی ایک کی ماننا اسلام ہے۔ دین کبھی نہیں بدلتا، صرف شریعتیں وقت کے مطابق بدلتی رہی ہیں اور وہ بھی اسی مالک کے بتائے ہوئے طریقے پر۔ جب انسان کی نسل ایک ہے اور ان کا مالک ایک ہے تو راستہ بھی صرف ایک ہے۔ قرآن نے کہا ہے:
”دین تو اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔“
(ترجمہ القرآن، آل عمران
۳:۹۱) ایک اور سوال:
یہ سوال بھی ذہن میں آسکتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے نبی اور پیغمبر ہیں اور وہ دنیا کے آخری پیغمبر بھی ہیں، اس کا کیا ثبوت ہے؟
جواب صاف ہے کہ اول تو یہ قرآن جو خدا کا کلام ہے، اس نے دنیا کو اپنے سچے ہونے کے لیے جو دلیلیں دی ہیں، وہ سب کو ماننی پڑی ہیں اور آج تک ان کی کاٹ نہیں ہوسکی ہے۔ اس نے محمد ﷺ کے سچے اور آخری نبی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے محمد ﷺ کی زندگی کا ایک ایک پَل دنیا کے سامنے ہے۔ ان کی تمام زندگی تاریخ کی کھلی کتاب ہے۔ دنیا میں کسی بھی انسان کی زندگی آپ کی زندگی کی طرح محفوظ اور تاریخ کی روشنی میں نہیں ہے۔ آپ کے دشمنوں اور اسلام دشمن تاریخ دانوں نے بھی کبھی یہ نہیں کہا کہ محمد ﷺ نے اپنی ذاتی زندگی میں کبھی کسی سلسلے میں جھوٹ بولا ہو۔ آپ کے شہر والے آپ کی سچائی کی گواہی دیتے تھے۔ جس بہترین انسان نے اپنی ذاتی زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، وہ دین کے نام پر اور رب کے نام پر جھوٹ کیسے بول سکتا تھا؟ آپ نے خود یہ بتایا ہے کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تمام مذہبی کتابوں میں آخری رشی، کلکی اوتار کی جو پیشین گوئیاں کی گئیں اور علامتیں بتائی گئی ہیں، وہ صرف محمد ﷺ پر پوری اترتی ہیں۔

پنڈت وید پرکاش اپادھیائے کا فیصلہ:
پنڈت وید پرکاش اپادھیائے نے لکھا ہے کہ جو شخض اسلام قبول نہ کرے اور محمد ﷺ اور آپ کے دین کو نہ مانے، وہ ہندو بھی نہیں ہے، اس لیے کہ ہندوو ¿ں کے مذہبی گرنتھوں میں کلکی اوتار اور نراشنس کے اس زمین پر آجانے کے بعد ان کو ماننے، اور ان کے دین کوتسلیم کرنے پر زور دیا گیا ہے، اس طرح جو ہندو بھی اپنے مذہبی گرنتھوں میں عقیدہ رکھتا ہے، اللہ کے رسول محمد ﷺ کو مانے بغیر مرنے کے بعد کی زندگی میں دوزخ کی آگ، وہاں اللہ کے دیدار سے محرومی اور اس کے دائمی غضب کا مستحق ہوگا۔
ایمان کی ضرورت:
مرنے کے بعد کی زندگی کے علاوہ اس دنیا میں بھی ایمان اور اسلام ہماری ضرورت ہے اور انسان کا فرض ہے کہ ایک مالک کی عبادت و اطاعت کرے۔ جو اپنے مالک اور رب کا در چھوڑ کر دوسروں کے سامنے جھکتا پھرے، وہ جان وروں سے بھی گیا گزرا ہے۔ کتا بھی اپنے مالک کے در پر پڑا رہتا ہے اور اسی سے آس لگاتا ہے۔ وہ کیسا انسان ہے، جو اپنے سچے مالک کو بھول کر در در جھکتا پھرے!
لیکن اس ایمان کی زیادہ ضرورت مرنے کے بعد کے لیے ہے، جہاں سے انسان واپس نہ لوٹے گا اور موت پکارنے پر بھی اس کو موت نہ ملے گی۔ اس وقت پچھتاوا بھی کچھ کام نہ آئے گا۔ اگر انسان یہاں سے ایمان کے بغیر چلا گیا تو ہمیشہ جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا۔ اگر اس دنیا کی آگ کی ایک چنگاری بھی ہمارے جسم کو چھو جائے تو ہم تڑپ جاتے ہیں تو دوزخ کی آگ کیسے برداشت ہوسکے گی! دوزخ کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ تیز ہے اور بے ایمان والوں کو اس میں ہمیشہ جلنا ہوگا۔ جب ان کے بدن کی کھال جل جائے گی تو دوسری کھال بدل دی جائے گی، اس طرح لگاتار یہ سزا بھگتنا ہوگی۔

انتہائی توجہ طلب بات:
میرے عزیز قارئین! موت کا وقت نہ جانے کب آجائے۔ جو سانس اندرہے، اس کے باہر آنے کا بھروسا نہیں اور جو سانس باہر ہے، اس کے اندر آنے کا بھروسا نہیں۔ موت سے پہلے مہلت ہے، اس مہلتِ عمل میں اپنی سب سے پہلی اور سب سے بڑی ذمے داری کا احساس کرلیں۔ ایمان کے بغیر نہ یہ زندگی کام یاب ہے اور نہ مرنے کے بعد آنے والی زندگی۔
کل سب کو اپنے مالک کے پاس جانا ہے، وہاں سب سے پہلے ایمان کی پوچھ تاچھ ہوگی۔ہاں،اس میں میری ذاتی غرض بھی ہے کہ کل حساب کے دن آپ یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تک رب کی بات پہنچائی ہی نہیں گئی تھی۔
مجھے امید ہے کہ یہ سچی باتیں آپ کے دل میں گھر کرگئی ہوں گی تو آئیے محترم! سچے دل اور سچی روح والے میرے عزیز دوست! اس مالک کو گواہ بناکر اور ایسے سچے دل سے جسے دلوں کا حال
جاننے والا مان لے، اقرار کریں اورعہد کریں:
اَشْهَدُ اَن لَّآ اِلٰهَ اِلَّا االلهُ  وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْ لُهُ
”میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، (وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں)اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
میں توبہ کرتا ہوں کفر سے، شرک (کسی بھی طرح اللہ کا شریک بنانے) سے اور تمام طرح کے گناہوں سے اور اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ اپنے پیدا کرنے والے سچے مالک کے سب حکم مانوں گا اور اس کے سچے نبی محمد ﷺ کی سچی اطاعت کروں گا۔
رحیم اور کریم مالک مجھے اور آپ کو اس راستے پر مرتے دم تک قائم رکھے، آمین!
میرے عزیز دوست! اگر آپ اپنی موت تک اس یقین اور ایمان کے مطابق اپنی زندگی گزارتے رہے تو پھر معلوم ہوگا کہ آپ کے اس بھائی نے کیسا محبت کا حق ادا کیا۔

ایمان کا امتحان:اس اسلام اور ایمان کے باعث آپ کی آزمائش بھی ہوسکتی ہے، مگر جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ یہاں بھی حق کی جیت ہوگی اور اگر زندگی بھر امتحان سے گزرنا پڑے تو یہ سوچ کر سہہ جانا کہ اس دنیا کی زندگی تو کچھ دنو ں تک محدود ہے۔ مرنے کے بعد کی ہمیشہ کی زندگی وہاں کی جنت اور اس کے سکھ حاصل کرنے کے لیے اور اپنے مالک کو راضی کرنے کے لیے اور اس کے بالمشافہ دیدار کے لیے یہ آزمائشیں کچھ بھی نہیں ہیں۔آپ کا فرض:
ایک بات اور ۔ ایمان اور اسلام کی یہ سچائی ہر اس بھائی کا حق اور امانت ہے، جس تک یہ حق نہیں پہنچا ہے، اس لیے آپ کا بھی فرض © ہے کہ بے لوث ہوکر اللہ واسطے صرف اپنے بھائی کی ہم دردی میں اسے مالک کے غضب، دوزخ کی آگ اور سزا سے بچانے کے لیے، دکھ درد کے پورے احساس کے ساتھ جس طرح اللہ کے رسول ﷺ نے عمر بھر یہ سچائی پہنچائی تھی، آپ بھی پہنچائیں۔ اس کو صحیح سچا راستہ سمجھ میں آجائے، اس کے لیے اپنے مالک سے دعا کریں۔ کیا ایسا شخص انسان کہلانے کا حق دار ہے، جس کے سامنے ایک اندھا بینائی سے محروم ہونے کی وجہ سے آگ کے الاو ¿ میں گرنے والا ہو، اور وہ ایک بار بھی پھوٹے منھ سے یہ نہ کہے کہ تمہارا یہ راستہ آگ کے الاو ¿ کی جانب جاتا ہے۔ سچی انسانیت کی بات تو یہی ہے کہ وہ اس کو روکے، اس کو پکڑ کر بچائے اور عزم کرے کہ جب تک اپنا بس ہے، میں ہرگز اسے آگ میں گرنے نہیں دوں گا۔
ایمان لانے کے بعد ہر مسلمان پر حق ہے کہ جس کو دین کی، نبی کی، قرآن کی ہدایت مل چکی ہے، وہ شرک اور کفر کی شیطانی آگ میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی دھن میں لگ جائے۔ ان کی ٹھوڑی میں ہاتھ دے، ان کے پاو ¿ں پکڑے کہ لوگ ایمان سے ہٹ کر غلط راستے پر نہ جائیں۔ بے غرض اور سچی ہم دردی میں کہی گئی بات دل پر اثر کرتی ہے۔ اگر آپ کے ذریعے ایک آدمی کو بھی ایمان مل گیا اور ایک شخص بھی مالک کے سچے در پر لگ گیا تو ہمارا بیڑا پار ہوجائے گا، اس لیے کہ اللہ اس شخص سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے، جو کسی کو کفر اور شرک سے نکال کر سچائی کے راستے پر لگادے۔ آپ کا بیٹا اگر آپ سے باغی ہوکر دشمن سے جاملے اور آپ کے بجائے وہ اسی کے کہنے پر چلے، پھر کوئی نیک آدمی اس کو سمجھا بجھا کر آپ کا فرماں بردار بنادے تو آپ اس نیک آدمی سے کتنے خوش ہوںگے۔ مالک اس بندے سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے، جو دوسرے تک ایمان پہنچانے اور بانٹنے کا ذریعہ بن جائے۔

ایمان لانے کے بعد:
اسلام قبول کرنے کے بعد جب آپ مالک کے سچے بندے بن گئے تو اب آپ پر روزانہ پانچ بار نماز فرض ہے۔ آپ اسے سیکھیں اور پڑھیں۔ اس سے روح کو تسکین ہوگی اور اللہ کی محبت بڑھے گی۔ مال دار ہیں تو دین کی مقرر کی ہوئی در سے ہر سال اپنی آمدنی میں سے مستحقین کا حصہ زکوٰة کے طور پر نکالنا ہوگا، رمضان کے پورے مہینے روزے رکھنے ہوں گے اور اگر بس میں ہو تو عمر میں ایک بار حج کے لیے مکہ جانا ہوگا۔
خبردار! اب آپ کا سر اللہ کے علاوہ کسی کے آگے نہ جھکے۔ آپ پر کفر و شرک، جھوٹ، فریب، دھوکا دہی، بدمعاملگی و رشوت، قتلِ ناحق،پیدا ہونے سے پہلے یا پیدا ہونے کے بعد اولاد کا قتل، بہتان تراشی، شراب، جوا، سود، سور کا گوشت ہی نہیں، حلال گوشت کے علاوہ تمام حرام گوشت، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺکی ہر حرام کی ہوئی چیز منع ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ اور اللہ کی پاک اور حلال بتائی ہوئی چیزوں کو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، پورے شوق سے کھانا چاہیے۔
اپنے مالک کے ذریعے دیا گیا پاک کلام قرآنِ مجید سمجھ کر پڑھنا ہے اور پاکی اور صفائی کے طریقے اور دینی معاملات سیکھنے ہیں۔ سچے دل سے یہ دعا کرنی ہے کہ اے ہمارے مالک! ہم کو، ہمارے دوستوںکو، خان دان کے لوگوں اور رشتے داروں کو اور اس روئے زمین پر بسنے والی پوری انسانیت کو ایمان کے ساتھ زندہ رکھ اور ایمان کے ساتھ انہیں موت دے، اس لیے کہ ایمان ہی انسانی سماج کا پہلا اور آخری سہارا ہے۔ جس طرح اللہ کے ایک پیغمبر ابراہیم علیہ السلام جلتی ہوئی آگ میں اپنے ایمان کی بدولت کود گئے تھے اور ان کا بال بیکا نہیں ہوا تھا، آج بھی اس ایمان کی طاقت آگ کو گل و گل زار بناسکتی ہے اور سچے راستے کی ہر رکاوٹ کو ختم کرسکتی ہے
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
٭٭٭

Thursday, December 30, 2010

اقوال سلف وخلف

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اقوال سلف وخلف
: قبول دعا کے لئےمایوسی ،احساس بیچارگی اور اضطراب ضروری ہے ،یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی بدکاروں کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے ، کیوں کہ اللہ تعالی کو غم زدہ دل کی بے تاب دھڑکن مائل بہ کرم کرتی ہے –
طلب علم کے دوران طالب علم کو بلند ہمتی سے کام لینا چاہیئے-
اصل کمال علم اورعمل دونوں کو جمع کرنے میں ہے  (ابن جوزی)
:علم بغیر عمل کے ایسا ہے جیسے جسم بغیر روح ،جب تک علم بہ ہمہ وجوہ عمل سے متفق نہ ہوگا کافی نہ ہوگا ،اور نہ مخلصانہ (امام ابو حنیفہ)
: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وارث وہ شخص ہے جو رسول کریم کے فعل کی اقتداءکرےنہ کے کاغز سیاہ کرے – (حضرت ابولحسن خرقانی)
:جو بچپن اور جوانی میں مطیع ہو ،بڑھاپے میں بھی مطیع ہوتا ہے –
تین گروہ نجات نہیں پاتے ہیں،بخیل،کاہل،اور ملول-
چار شخصوں کے پاس خالی ہاتھ مت جاؤ-عیال،بیمار،فقیر،اور بادشاہ-(حضرت ابواسحق گاذرونی)
: جب انسان صادق ہو،تو نیک کام کرنے سے پہلے ہی اس میں لذت پاتا ہے –
تین چیزوں کی دوستی مضر ہے – نفس ،زندگی اور مال،-(حضرت ابو تراب بخشی)
:زمانے کی گردش عجیب ہے اور حالات سے غفلت عجیب تر ہے –
اخلاق یہ ہے کہ اعمال کا عوض نہ چاہے –(حضرت ابوبکرصدیق)
:بے وقوف کے ساتھ جنت میں بیٹھنے سے عقلمند کے ساتھ قید خانے میں بیٹھنا بھتر ہے – دنیا میں وہ سب سے کمزور ہے جو اپنی خواہش پر قابو نہ رکھتا ہو ،اور سب سے قوی وہ ہے جو ضبط کی قوت رکھتا ہو –(ابوبکر بن عباد)
:تو جنت طلب نہ کر ،بلکہ ایسی شئہ طلب کر کہ خود جنت تیری طالب ہو ،اور تو دوزخ سے نہ بھاگ،بلکہ ایسی چیز سے بھاگ ،جس کی وجہ سے خود دوزخ بھاگے-(حضرت ابوبکرواسطی)
:  لقمہ ایک سمندر ہے  جیسا پانی ویسا موتی  اور جیسی غزا ویسے اعمال اللہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے (مولانا یوسف صاحب)

Friday, December 24, 2010

موت کی تیاری

 

موت کی تیاری


تعجب ہے اس پر جسے عنقریب موت انجانی راہوں کا مسافر بنانے والی ہے ،مگر اس کے پاس توشہٴ سفر بہت کم ہے۔
تعجب ہے اس پر جس کی آنے والی راہیں پر پیچ ہیں، مگر اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ ہے۔
 تعجب ہے اس پر جسے موت کا کڑوا گھونٹ پینا ہے ،مگر اس کی زبان شیرینی کی عادی ہے۔
 تعجب ہے اس پر جو ریشم کے پھولوں پر سوتاہے، مگر وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ قبر کے ریتلے فرش پر کیسے سوئے گا۔
تعجب اس پر جس کی ہر رات کے بعد سحر آتی ہے، مگر وہ آنے والی اس رات سے بے خبر ہے جس کی کوئی سحر نہیں۔
تعجب ہے اس پر جو رنگ برنگی سوٹ خریدنے بازاروں کا رخ کرتا ہے، مگر یہ بھول جاتاہے کہ انہی بازاروں میں اس کے کفن کی بولی لگ رہی ہے۔
افسوس ہے اس پر کہ موت اس کے شہر سے یہ صدا بلند کئے جاتی ہے کہ تو بھی نظر میں ہے ،مگر وہ کانوں میں انگلیاں دیئے بیٹھا ہے۔
افسوس کہ موت نے اس کے گھر کی راہ دیکھ لی اور وہ اپنی راہیں بدل رہا ہے۔
افسوس اس پر کہ موت نے جس پر اپنے پنچے گاڑھ لئے اور وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہا ہے۔
 وائے ناکامی اس کے لئے کہ موت نے جس کی روح کو سجین میں پہنچادیا‘ مبارک ہے وہ کہ موت نے جس کی روح کو علیین میں پہنچادیا۔
موت کیاہے؟
”الذی خلق الموت والحیٰوة․․․“ کی رو سے یہ ایک مستقل اطاعت گزار وجودی مخلوق ہے‘ یہ ہمیشہ خدا کے حکم سے آتی ہے، اپنی مرضی سے نہیں ‘ پابندئ وقت اس پر ختم ہے‘ مقررہ وقت پر آتی ہے، ایک ثانیہ کی تعجیل وتاخیر نہیں کرتی۔اسی طرح موت فنائے عالم کا نام نہیں‘ بلکہ ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقل ہونے کا نام ہے‘ جیسے خلائی گاڑی کے ذریعے انسان زمین سے چاند پر پہنچ جاتا ہے‘ بقول امام غزالی:
”انسان ایک لباس اتار کر دوسرا لباس پہن لیتا ہے۔“
موت کیا ہے یہ راز کھل ہی گیا زندگی اک رخ بدلتی ہے
اس کنارے سے اس کنارے تک جیسے اک موج جانکلتی ہے
(خزینہٴ بصیرت)
موت دیگر مخلوقات کی طرح خالق کائنات کے حکم کن سے وجود میں آئی ہے اور ہمیشہ انسانی نظروں سے اوجھل رہتی ہے‘ انسان اسے ڈھونڈتے ہوئے بھی نہیں پاسکتا‘ بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بجا ہوگا کہ انسانی آنکھ اسے زندگی میں دیکھنے سے قاصر ہے‘ کوئی دیکھے بھی تو کیسے دیکھے‘ نہ ہی اس کا کوئی مکان ہے اور نہ ہی یہ مکین ہے اور نہ اس کا کوئی مخصوص راستہ ہے کہ انسان گھات لگاکر اسے پکڑلے‘ یہ جس گھر کا رخ کرتی ہے کہرام مچادیتی ہے‘ وہاں کے مکینوں کو رنج والم کی چادر اوڑھا دیتی ہے حتی کہ عرصہ دراز تک وہاں کی فضا سوگوار ہوجاتی ہے۔
موت حکم الٰہی کی ہمیشہ منتظر رہتی ہے ،حکم ملنے پر پلک جھپکنے کی سی دیر نہیں کرتی اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ہدف کی تلاش میں نکل پڑتی ہے‘ چاہے وہ آنکھوں کو چندھیا دینے والی سورج کی شعاعوں میں (یعنی دن میں) ہو یا ظلمت شب کی تاریک راہوں میں ہو‘ شہر میں ہو یا بستی میں‘ بازاروں میں ہو یا ویرانوں میں۔ غرض یہ کہ جہاں بھی ،جس حالت میں اپنے ہدف کو پاتی ہے‘ لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوجاتی ہے۔
ذائقہ موت
اللہ تعالیٰ نے موت میں ذائقہ رکھا ہے، اب وہ کیسا ہے ،میٹھا یا کڑوا؟ اس کا دار ومدار انسانی اعمال پر منحصر ہے‘ البتہ ذائقہ چکھنے سے کوئی بھی کسی صورت میں بچ نہیں سکتا، جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :”ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے“
الدنیا کاس وکل الناس شاربہا
الموت جسر وکل الناس مارہا
ترجمہ:․․․”دنیا کی مثال ایک پیالے کی ہے اور تمام لوگ اسے پینے والے ہیں‘ موت ایک پل ہے اور تمام لوگ اس پر گزرنے والے ہیں“۔
حضرت حسن  فرماتے ہیں کہ حضور انے ایک مرتبہ موت کی سختی کا ذکر فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ: ”اتنی تکلیف ہوتی ہے جیسے کہ تین سو جگہ تلوار کے کاٹ سے ہوتی ہے“۔
کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جب وصال ہوا تو حق تعالیٰ شانہ نے دریافت کیا کہ موت کو کیسا پایا؟انہوں نے عرض کیا کہ: میں اپنی جان کو ایسا دیکھ رہا تھا جیسے زندہ چڑیا کو اس طرح آگ پر بھونا جارہا ہو کہ نہ اس کی جان نکلتی ہو، نہ اڑنے کی صورت ہو۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ایسی حالت تھی جیساکہ زندہ بکری کی کھال اتاری جارہی ہو۔
حضرت شداد بن اوس  فرماتے ہیں کہ:
” موت دنیا وآخرت کی سب تکلیفوں سے سخت ہے‘ وہ قینچیوں سے کتر دینے سے زیادہ سخت ہے‘ وہ دیگ میں پکانے سے زیادہ سخت ہے۔ اگر مردے قبر سے اٹھ کر مرنے کی تکلیف بتائیں تو کوئی شخص بھی دنیا میں لذت سے وقت نہیں گزار سکتا‘ میٹھی نیند اس کو نہیں آسکتی۔“ (موت کی یاد حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا)
امام مزنی کہتے ہیں جس دن حضرت امام شافعی  نے انتقال کیا تو اس کی صبح کو میں عیادت کے لئے حاضر ہوا تھا:مزاج کیسا ہے؟ میں نے سوال کیا،انہوں نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا:
”دنیا سے جارہا ہوں‘ دوستوں سے جدا ہورہا ہوں‘ موت کا پیالہ منہ سے لگا ہے‘ نہیں معلوم میری روح جنت میں جائے گی اسے مبارکباد دوں یا دوزخ میں جائے گی اسے تعزیت پیش کروں‘ پھر یہ شعر پڑھے:
ولما قسیٰ قلبی وضاحت مذاہبی
جعلت الرجاء فی عفوک سلما
ترجمہ:․․․”اپنے دل کی سختی اور اپنی بے چارگی کے بعد میں نے تیری عفو پر اپنی امید کو سہارا بنالیا ہے“۔
تعظمی ذنبی فلما قرنتہ
بعفوک ربی کان عفوک اعظما
ترجمہ:․․․”میرا گناہ میری نظر میں بہت ہی بڑا ہے مگر جب تیری عفو کے مقابلے میں اسے رکھا تو اے رب! تیرا عفو زیادہ نکلا“۔ (انسانیت موت کے دروازے پر)
موت رحمت یا زحمت؟
اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کو زندگی بخشی ہے‘ اس زندگی کی ابتداء بھی ہے اور انتہاء بھی۔ دنیا میں اس زندگی کی انتہاء موت ہے‘ انسان پر موت طاری کرنے کا مقصد انسان کو جانچنا ہے کہ اس نے چند روزہ دنیاوی زندگانی میں اپنے اعمال واقوال کے ذریعے اپنے لئے جنت کو سنوارا ہے یا جہنم کی آگ کو بھڑکایا ہے تو اب پہلی صورت میں موت اس کے لئے رحمت ہے ‘جب کہ دوسری صورت میں اس پر موت کا آنا زحمت ہے۔
موت رحمت ہے ،اس طفلِ شیر خوار کے لئے کہ جس نے زمانہٴ طفولیت میں ہی زندگی کو الوداع کہہ کر موت کی آغوش میں چلا گیا اور اپنے والدین کے لئے امید شفاعت بن گیا۔
موت رحمت ہے ،اس نوجوان کے لئے جو داغ دار دنیا سے اپنا دامن بچاکر بے داغ جوانی لے کر جنت کی حوروں کا مہمان بن گیا ۔
موت رحمت ہے، اس بزرگ کے لئے جس کو دنیا کے حوادثات نے لاغر وکمزور کر کے اپنے ہاتھوں سے دبوچا اور خوب ستایا اور اب موت نے اپنی آغوش میں لے کر تمام تکالیف سے نجات بخش دی۔
انسان دنیا میں جتنی دیر تک رہے گا تو اس کی امیدوں اور تمناؤں کا پودا بڑھتا رہے گا‘پھر ان امیدوں کو پورا کرنے کے لئے اسے حلال و حرام کی کسوٹی کو پس پشت پھینکنا پڑے گا‘پھر گناہوں کا بار گراں بڑھتا رہے گا اور جس پر جتنا زیادہ بوجھ ہوگا وہ آخرت میں اتنا ہی پریشان ہوگا اور کم بوجھ والے کی پریشانی وملامت ذرا ہلکی ہوگی ،اس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ اگر کسی کا ایک روپیہ چوری ہوجائے اور دوسرے آدمی کے دس روپے چوری ہوجائیں تو اول کا حال بنسبت دوسرے کے ہلکا ہوگا۔
موت کو یاد رکھا جائے
حضرت ابن عمر  فرماتے ہیں کہ: ہم دس آدمی جن میں ایک میں بھی تھا‘ حضور ا کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ ایک انصاری نے حضور علیہ السلام سے عرض کیا کہ: سب سے زیادہ سمجھدار اور سب سے زیادہ محتاط آدمی کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
” جو لوگ موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والے ہوں اور موت کے لئے سب سے زیادہ تیاری کرنے والے ہوں‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا کی شرافت اور آخرت کا اعزاز لے اڑے“۔
حضرت ابوذر  فرماتے ہیں کہ حضور ا نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ:
” قبرستان جایا کرو‘ اس سے تم کو آخرت یاد آئے گی اور مردوں کو غسل دیا کرو کہ یہ (نیکیوں سے)خالی بدن کا علاج ہے اور اس سے بڑی نعمت حاصل ہوتی ہے اور جنازہ کی نماز میں شرکت کیا کرو ،شاید اس سے کچھ رنج وغم تم میں پیدا ہوجائے کہ غمگین آدمی (جس کو آخرت کا غم ہو) اللہ کے سایہٴ میں رہتا ہے اور ہر خیر کا طالب رہتا ہے“۔
ایک حکیم کسی جنازے کے ساتھ جارہے تھے‘ راستہ میں لوگ اس میت پر افسوس اور رنج کررہے تھے وہ صاحب فرمانے لگے کہ: تم اپنے اوپر رنج اور افسوس کرو تو زیادہ مفید ہوگا‘ یہ تو چلا گیا اور تین آفتوں سے نجات پاگیا :
۱- آئندہ ملک الموت کو دیکھنے کا خوف اس کو نہیں رہا ۔
۲- موت کی سختی جھیلنے کی اب اس کو نوبت نہیں آئے گی۔
۳- برے خاتمہ کا خوف ختم ہوگیا۔ (اپنی فکر کرو کہ یہ تینوں مرحلے تمہارے لئے باقی ہیں)
موت کو کیسے یاد رکھا جائے؟
امام غزالی فرماتے ہیں کہ موت کا معاملہ زیادہ خطرناک ہے اور لوگ اس سے بہت غافل ہیں۔ اول تو اپنے مشاغل کی وجہ سے اس کا تذکرہ ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تب بھی چونکہ دل دوسری طرف مشغول ہوتا ہے اس لئے محض زبانی تذکرہ مفید نہیں‘ بلکہ ضرورت اس کی ہے کہ سب طرف سے بالکل فارغ ہوکر موت کو اس طرح سوچے کہ گویا وہ سامنے ہے جس کی صورت یہ ہے کہ: اپنے عزیز واقارب اور جانے والے احباب کا حال سوچے کہ کیونکر ان کو چار پائی پر لے جاکر مٹی کے نیچے دبا دیا ۔ان کی صورتوں کا‘ ان کے اعلیٰ منصبوں کا خیال کرے اور یہ غور کرے کہ اب مٹی نے کس طرح ان کی صورتوں کو پلٹ دیا ہوگا‘ ان کے بدن کے ٹکڑے الگ الگ ہوگئے ہوں گے‘ کس طرح بچوں کو یتیم‘ بیوی کو بیوہ اور عزیز واقارب کو روتا چھوڑ کر چل دئے‘ ان کے سامان‘ ان کے کپڑے پڑے رہ گئے‘ یہی حشر ایک دن میرا بھی ہوگا۔ کس طرح وہ مجلسوں میں بیٹھ کر قہقہے لگاتے تھے آج خاموش پڑے ہیں‘ کس طرح دنیا کی لذتوں میں مشغول تھے آج مٹی میں ملے پڑے ہیں‘ کیسا موت کو بھلارکھا تھا آج اس کا شکار ہوگئے۔ کس طرح جوانی کے نشہ میں تھے آج کوئی پوچھنے والا نہیں‘ کیسے دنیا کے دھندوں میں ہر وقت مشغول رہتے تھے آج ہاتھ الگ پڑا ہے‘ پاؤں الگ ہے‘ زبان کو کیڑے چاٹ رہے ہیں‘ بدن میں کیڑے پڑ گئے ہوں گے۔ کیسا کھل کھلا کر ہنستے تھے آج دانت گرے پڑے ہوں گے۔ کیسی کیسی تدبیر یں سوچتے تھے برسوں کے انتظام سوچتے تھے حالانکہ موت سر پر تھی‘ مرنے کا دن قریب تھا‘ مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ آج رات کو میں نہیں رہوں گا اور آج یہی حال میرا ہے۔ آج میں اتنے انتظامات کررہا ہوں مگر کل کی خبر نہیں کہ کل کیا ہوگا۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں