Wednesday, November 30, 2011
Thursday, October 27, 2011
پردہ کا اسلامی تصور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پردہ کا اسلامی تصور
اسوقت پوری دنیا بالخصوص مغربی ممالک میں پردہ کے اسلامی تصور کے خلاف جو جنگ جاری ہے اور عملا اسپر روک لگانے کےلئے جو حربے آزمائے جارہے ہیں وہ کسی صاحب نظر سے مخفی نہیں اور آئے دن ایسی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں جسمیں کسی ملک اور اور کسی علاقہ میں پردہ کے خلاف آواز اٹھائی گیئ ہو حالانکہ یہ مسئلہ صریح عقلی بلکہ طبعی ہے اگر شریعت اس سے کچھ تعرض بھی نہ کرتی تو بھی ایک طرف طبعی غیرت او راخلاقی شرافت اور دوسری طرف واقعات کا مشاہدہ ہر صحیح المزاج سلیم الفطرت کو پردہ کی ضرورت پر مجبور کرتا یہ تو شریعت کا احسان ہے کہ قوائے حسیہ ونفسیہ کو مشقت سے بچا کر مفت اس مسلے کی تعلیم فرمادی ۔
چنانچہ ایک مفکر کا قول ہے ،اسلامی قانون معاشرت کا مقصد ضابطئہ ازدواج کی حفاظت ،صنفی انتشارکی روک تھام اور غیر معتدل شہوانی تحریکات کا انسداد ہے اس غرض کے لئے شارع نے تین تدابیر بتائی ہے،1اصلاح اخلاق ،2تعزیر قوانین ،3انسدادی تدابیر :یعنی ستر وحجاب یہ گویا تین ستون ہیں جن پر ایوان اسلامی قائم ہے اسی لئے قرآن پاک کی سورہ بنی اسرائل آیت() اللہ تعالی کا ارشاد ہے ولا تقربوا الزنا اانہ کان فاحشۃ ،ترجمہ زنا کے قریب بھی مت پھٹ کو اس لئیکہ وہ بے حیائی کا کام ہے ،اس آیت کے مفہوم میں تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ محرکات زنا کے قریب بھی مت جاؤ یعنی شراب ،موسیقی ،بدنظری ،وغیرہ اور عورتوں کو ستر وحجاب کا حکم بھی اسی ظمن میں داخل ہے کیوں کہ اگر وہ بے پردہ ہوں گی تو مقصد معاشرت فوت ہوجائیگا نیز حیا کا خاتمہ ہوجائیگا نتیجتا وہ برايئاں جنم لینگی جن میں آج پورہ یورپ مبتلا ہے ۔
اسی وجہ سے شریعت اسلامیہ کے قوانین اس سلسلے میں بہت معتدل اور قریب الفطرت والعقل ہے اس سلسلے میں افراط سے کام لیا گیا نہ تفریط سے لیکن یہ بھی ان لوگوں کے لئے ہے جو سلیم الفطرت ہو شرافت انسانی کا کچھ شمہ انمیں باقی ہو ورنہ جو مقلوب الفطرت ہے انکے لئے تو تہذیب جدید کی نیرنگیاں اور کھلے عام بے حیایئ کا ارتکاب ہی عقل وفطرت کے مطابق ہوگا چنانچہ ایک حدیث شریف میں اسی کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے بزار اور دار قطنی کی روایت ہے کہ حضرت علی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپۖ نے سوال فرمایا کہ عورت کےلئے سب سے بہتر کیا چیز ہوتی ہے کسی نے جواب نہ دیا حضرت علی فرماتے ہيں کہ میں نے حضرت فاطمہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا لا یرین الرجال ولا یرونھن، عورت کے لئے سب سے اچھی چیز یہ ہوتی ہے کہ وہ مردوں کو دیکھے نہ مردانکو دیکھے ،فی زمانہ عوررتوں کا باریک لباس پہننا نیز بالوں کی آرئش اسی طرح باریک باریک جزئیات کو اختیار کرنا اسکو بتلاتا ہے کہ عورت خود اپنی نمايئش چاہتی ہے کہیں نہ کہیں دل کے پردو ں اور نہاں خانوں میں اپنی نمائش حسن کا جزبہ پوشیدہ ہوتا ہے ،
چنانچہ عورتوں کو جو سب سے پہلا حکم دیا گیا وہ یہ ہے کہ عورت اکثر اوقات گھر میں رہے بلا ضرورت شدیدہ گھر سے باھر نہ نکلے گھر میں رھکر گھر اور خاندان کے نظام کو سنبھالے اپنی عفت وعصمت کی حفاظت کی ساتھ اولاد کی تعلیم ،انکی تربیت کا خاص خیال رکھے خود بھی ایسے اخلاق ایسا لباس اختیار کرے جو مطاق شریعت ہو اور اپنی اولاد کو بھی اسکی تعلیم دیں عورتوں پر اندرون خانہ وہ بیرون خانہ دونوں زمہ داریاں نہیں رکہی گیئں جن کا وہ تحمل نہ کرسکیں جیسے دل داد گان تہذیب جدید کا انداز کہ وہ اپنی عورتوں کو اندرون وبےرون دونوں زمہ داریوں کا مکلف سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے صنف نازک کے احساسات ،وجدان ،اور صحت پر جو برا اثر پڑتا ہے اسکو ضرورت اور ترقی کا نام دیکر ٹال دیا جاتا ہے اسلئے بیرون خانہ جتنی ذمہ داریاں ہیں وہ سب مرد پر رکھی گیئ ہیں چنانچہ ارشاد باری ہے الرجال قوامون علی النساء :ترجمہ مرد عورتوں کے ذمہ دار ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے بعض کو بعض پر دی ہے اور اس وجہ سے کہ مرد اپنے مال ان پر خرچ کرتے ہیں ،او ر عورتوں کے لئے فرمایا وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی ،:سورۃ الاحزاب() ترجمہ : اور تم (عورتیں بطور خاص ازواج مطہرات ) اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح نہ پھرا کرو ابن کثیر نے سند بزار کے حوالے سے یہ روایت نقل فرمائی ہے کہ کچہ عورتو ں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لےگئے اب آپ ہمیں کوئی ایسا عمل بتایئں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پاسکتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو عورت اپنے گھر میں اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پالے گي ،
اسی طرح ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ عورت سر تا پا پردہ کی چیز ہے یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جہانکنے لگتا ہے یہ سب سے زیادہ اللہ تعالی کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب کہ یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو،
قرآن پاک کی سورۃ نساء آیت نمبر 6: میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : (الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضھم علی بعضوبما انفقوا من اموالھم ) "
مرد عورتوں پر نگراں ہے اس فضیلت کی بنا پر جو اللہ تعالی نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر عطا کی ہے اور اس بنا پر کہ وہ ان پر اپنا مال خرچ کرتے ہيں ،
یہ آیت صاف بتلاتی ہے کہ گھر کے باہر کا کام مرد کے سپرد ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا الرجال علی اھلہ وھو مسئول، مرد اپنے بیوی بچوں پر نگران ہے اور اپنے ماتحت کے سلسلے میں وہ اپنے عمل پر خدا کے سامنے جوابدہ ہے ،اور عورتوں کو باہر کا کوئی کام نہیں دیا گیا
Saturday, September 10, 2011
بیسٹ بیوٹی ٹِپس
ہاتھوںکی خوبصورتی کے لیے ہاتھوںسے صدقہ کریں
آواز کی خوبصورتی کے لیے تلاوت قُرآن پاک کریں
آنکھوں کی خوبصورتی کے لیے اللہ کے خوف سے نکلے ہوئے آنسو
چہرے کی خوبصورتی کے لیے اچھا وضو کریں
دل کی خوبصورتی کے لیے اللہ کی یاد
دماغ کی خوبصورتی کے لیے اللہ تعالی کی بارگاہ میںسجدہ
خود آزمائیںاور رزلٹ پائیں۔ انہیںبھی بتائیںجنہیںآپ خوبصورت دیکھنا چاہتےہی
Tuesday, August 30, 2011
انعام کی رات
انعام کی رات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ (یعنی انعام کی رات) سے لیا جاتا ہے اور جب عیدکی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں وہ زمین پر اترکر تمام گلیوں، راستوں کے سروںپر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے علاوہ ہرمخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کریم رب کی درگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والاہے اور بڑے سے بڑے قصورکو معاف کرنے والاہے۔
(
رمضان کی مبارک ساعتوں میں محنت کرنے والوں کو مبارک ہو، رمضان کی راتوں میں قیام کرنے والو، قرآن سننے والو، دن کو روزے رکھنے والو، گناہوں سے بچنے والو ، نیکیوں کی دوڑ لگانے والو، اللہ اللہ کی صدائیں لگانے والو خوش ہو جاؤ ! انعام کی رات آگئی ہے۔اللہ تبارک تعالیٰ کے مزدوروں کو مزدوری ملنے کا وقت آ گیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام (آسمانوں پر) لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات) لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں۔ یہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس رب کریم کی (درگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے۔ پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ‘ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں: کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو، وہ عرض کرتے ہیں ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے تو اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی اوربندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم! آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا۔ دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میری عزت کی قسم کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستّاری کرتا رہوں گا۔ (اور ان کو چھپاتا رہوں گا) میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں (اور کافروں) کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا۔ بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔ تم نے مجھے راضی کرلیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔ پس فرشتے اس اجروثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو عید کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔ (رواہ ابوالشیخ ابن حبان فی کتاب الثواب)
لیکن ذرا غور کیجئے!ذرا تصور کیجئے!
ایک شخص اپنی پوری زندگی کی پونجی ایک عالیشان مکان اورمحل بنانے پرصرف کردے اور جب خون پسینے کی گاڑھی کمائی سے بننے والا اس کاخوبصورت محل تیار ہوجائے تویکایک وہ شخص اپنے ہی ہاتھوں بنائے ہوئے اس محل کوگرانے پرکمربستہ ہوجائے۔۔۔کیا ایسے شخص کو ہوشمندوعاقل سمجھاجائے گا۔۔۔کیااسے پاگل اور مجنون نہیں سمجھاجائے گا۔۔۔ایک طالب علم سال بھرامتحان کی تیاری کرے‘دن رات کاآرام ‘چین‘ نینداورسکون اپنے اوپر حرام کرے‘ بالآخر اللہ اللہ کرکے وہ کمرۛ? امتحان میں داخل ہو‘ بڑی تندہی ‘محنت او ر کامیابی سے وہ اپناپیپرحل کرے لیکن اچانک وہ اپناساراحل شدہ پرچہ پھاڑ کرکمرۂ امتحان سے باہر نکل آئے اور بلاوجہ، بے لگام اچھلنا کودنا‘ناچناگانا اورہنگامہ کرنا شروع کردے۔۔۔ ایسے طالب علم کوکیاکہاجائے گا؟۔۔۔کیااسے بے وقوف اور دیوانہ نہیں کہاجائے گا کہ اس نے اپنے سارے سال کی مشقت اور خونِ جگرکی محنت پریکلخت پانی پھیردیا؟۔۔۔ایک مالی ایک پودے کوشب وروزمحنت سے سینچے‘گرمی ‘سردی اور دھوپ سائے کی پرواہ کئے بغیروہ اس پودے کی پرورش کرے اورجب یہ پودا ایک تناور درخت بن جائے اور پھل دینے کے قریب آجائے تو مالی کلہاڑا لے کر اس درخت کوکاٹنے پرتل جائے۔۔۔ ذرا سوچئے اسے کیاکہاجائے گا !۔۔۔ کیا دنیا میں ایسے انسانوں‘ ایسے طالب علموں اور ایسے مالیوں کا تصورکیاجا سکتا ہے؟ کیاایسے انسا ن دنیامیں موجود ہیں یاموجود ہوسکتے ہیں؟جی ہاں! ہمارا تجربہ اورمشاہدہ بتاتاہے کہ دنیامیں ایسے انسان موجودہیں۔ البتہ یہ کہاجاسکتاہے کہ ایسے انسان دنیامیں بہت کم ہوتے ہیں، شاذونادر ہوتے ہیں، آٹے میں نمک کے برابرہوتے ہیں۔
لیکن یہ کیا یہاں تو معاملہ بالکل الٹا ہے، ایسی مجنونانہ حرکتیں کرنے والوں کی اتنی زیادہ تعداد ۔ذرا اپنے اردگرد دیکھئے یہ کیاہورہاہے؟ کوئی ہنگامہ برپاہے،کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی،ایک ہجوم ہے،انسانوں کاسمندر ہے، چکاچوند روشنیاں ہیں، آنکھوں کوشرم سے پانی پانی کردینے والے مناظر ہیں، یہ کون ہے؟ حوّا کی بیٹی ہے،اسلام کی بیٹی ہے،مسلمان کی بیٹی ہے۔ ارے بھئی !ابھی کچھ وقت پہلے ہی کی بات ہے ‘یہ شرم وحیاء کی پتلی تھی، ایمان میں سرتاپا ڈوبی تھی، صوم وصلوٰۃ کے زیور سے لدی تھی، نظریں شرم سے جھکی تھیں، پردہ و حجاب میں لپٹی اور سمٹی تھی۔ لیکن آج اسے کیا ہوا۔ یہ چاند نکلتے ہی اس پر کیا جنون چھا گیا، کیا اس کاایمان ہی رخصت ہوگیا؟ یہ پردہ ‘یہ حجاب کہاں گیا؟ آوارہ مردوں کے ہجوم میں اس کا کیاکام،ارے یہ کس کی بہن ہے اس نے توکبھی اپنا ہاتھ کسی غیرمرد کونہ دکھایاتھا اوراب اسے کیاہوا ایک غیرمرد کواپنا ہاتھ پکڑارہی ہے ۔ محض اس لئے کہ اس کے ہاتھوں پرمہندی لگادی جائے۔ اور ذرا ادھردیکھئے ۔ اسے کیا ہوا؟ محرم مردوں کواپنے بازو نہ دکھانے والی نامحرموں کو اپنے بازوتھمارہی ہے، تاکہ اسے چوڑیاں پہنادی جائیں۔ اوریہاں مسلمان بہنیں یہ کیاکررہی ہے، بیوٹی پارلر میں گھسی ہے‘اپنے چہرے کوبگاڑ رہی ہے‘ فطرت کو مسخ کررہی ہے ‘کہیں پلکیں بدل رہی ہیں توکہیں بھنویں، کہیں جسم سے بال اکھڑوانے کے لئے تھریڈنگ ہورہی ہے توکہیں فشل اور ماسکنگ اورکہیں مصنوعی ناخن لگ رہے ہیں، کیا یوں اللہ کے دئیے ہوئے قدرتی اورحسین چہرے اور جسم کوپسندنہ کرنے والی اللہ کی رحمت کی مستحق ہوسکتی ہے؟ کیا انہیں اللہ کے نبی کایہ انتباہ بھول گیاہے۔۔۔جس میں آپ نے فرمایاتھا۔۔۔ ’’اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ان عورتوں پر جومردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اوران مردوں پرجوعورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور جوجسم گودتی اور گدواتی ہیں اورجواپنے حسن میں اضافہ کے لئے اپنے دانتوں میں خلا پیدا کرتی ہیں اور اپنی بھنووں اور پلکوں کوکترواتی ہیں اورجواپنے بالوں کے ساتھ نقلی بال لگواتی یااضافہ کرتی ہیں‘ وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرتی ہیں۔‘‘ اورہاں!ذرا ان مسلمان نوجوانوں کو بھی دیکھئے ! مہینہ بھر صوم وصلوٰۃ کے پابندرہنے والے ،پانچوں وقت مسجدوں کو آباد کرنے والے، ایک ماہ میں کئی کئی قرآن ختم کرنے والے، اعتکاف کے کرنے والے ، چاند رات آتے ہی یوں شتر بے مہار ہوگئے جیسے ایمان ان کوچھوکر بھی نہیں گیاتھا، کہیں عورتوں پر ٹکٹکیاں لگائی ہوئی ہیں توکہیں ان پر آوازے کس رہے ہیں، کہیں شیطان کی آواز ، موسیقی کی دھنوں پر بڑے بڑے ڈیک لگاکر ناچ کودرہے ہیں‘ شریفوں اور مریضوں کا جینا دوبھر کیے ہوئے ، توکہیں فلموں اور ڈراموں میں مست ہیں، کہیں سگریٹوں کے مرغولے بنارہے ہیں، توکہیں شراب کے جام لٹائے جارہے ہیں۔ کہیں ون ویلنگ کے کرتب دکھاکراپنی جوانیوں کو موت کالقمہ بنارہے ہیں ۔ اور یہ فحش عید کارڈوں کے اسٹالوں پر کون کھڑا ہے؟ اسلام کی بیٹیاں بھی اور بیٹے بھی۔ پھرسب سے بڑے المیے اور ستم کی بات یہ ہے کہ عیدکارڈ بھی ایسے ملک کے اداکاروں اور کھلاڑیوں کے جوہمارا ازلی دشمن ہے۔
کیا یہ سب اپنی محنتوں کو اپنے ہاتھوں برباد کرنے کے مترادف نہیں؟ کیا یہ جنونیت اور حماقت نہیں؟ خدارا کچھ سوچیں ! ہم رمضان میں بنی ہوئی ایمان کی یہ عمارت عید کی ایک ہی رات میں کیوں زمین بوس کرنا چاہتے ہیں؟
اس کے برعکس ہمارے اکابرین اور بزرگوں کا طرز عمل تو یہ تھا:
حضرت عامر ابن قیس کے بارے میں مروی ہیکہ وہ اختتام رمضان پر رونے لگے ،تو لوگوں نے کہا آپ کیوں رورہے ہیں ؟ تو فرمایا قسم بخدا متاع دنیا کے ضائع ہونے پر نہیں رورہا ہوں ، میں تو روزے میں پیاس کی شدت پر اور ٹھنڈی رات میں اللہ کے حضور میں کھڑے ہونے کی مشقت کے ہاتھوں سے چلے جانے پر رورہا ہوں، یعنی روزہ تراویح اور دیگر رمضانی عبادت اب نہ ہونے کا افسوس ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب رمضان المبارک کی آخری رات ہوتی تو آپ فرماتے ،ہائے کاش مجھے معلوم ہوجائے کہ کون ہے وہ شخص جس کی رمضان المبارک میں عبادتیں قبول ہوگئی ، تو میں انہیں مبارک باد دیتا ، اور اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون ہے ، جس کی عبادتیں قبول نہ ہو سکی اور وہ محروم رہا تو ہم اس کی تعزیت کرتے ۔
ایک بزرگ کو عید کے دن لوگوں نے غم زدہ دیکھا تو لوگوں نے کہا کہ خوشی اور مسرت کے دن آپ غم زدہ کیوں نظر آرہے ہیں؟تو فرمایا ، بات تو صحیح ہے کہ یہ خوشی اور مسرت کا دن ہے ، مگر مجھے اس بات نے غم میں ڈال رکھا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہو ں جس نے مجھے روزے اور دیگر عبادات کا حکم دیا ، مگر مجھے نہیں علم کے میرے یہ اعمال عنداللہ مقبول بھی ہوئے یا نہیں؟۔
بشر حافی رحمۃاللہ سے کسی نے دریافت کیا ، کہ حضرت بہت سے مسلمان ایسے دیکھے گئے ،جوصرف رمضان المبار ک میں خوب عبادت اور مجاہدہ کرتے ہیں اور بقیہ سال بھر پھر کچھ نہیں ، تو آپ نے فرمایا ، ایسااس لئے کہ انہوں نے اللہ کو کماحقہ نہیں پہچانا ، اور عارضی صرف رمضان المبارک کی حد تک کی عبادت کس کام کی؟ اصل عبادت اور حقیقی صلاح وتقویٰ تو یہ ہے کہ مسلمان سال بھر عبادت وریاضت ومجاہدہ ومحاسبہ میں لگارہے ۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ انعام کی اس رات کو اس طرح گزاریں کہ انعام دینے والا ہم سے خوش ہو۔
ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص پانچ راتوں میں (عبادت کیلئے ) جاگے۔ اس کے واسطے جنت واجب ہوجائے گی۔ لیلۃ التزویہ (آٹھ ذی الحجہ کی رات)، لیلۃ العرفہ (۹ ذی الحجہ کی رات)، لیلۃ النحر (۰۱ ذی الحجہ کی رات)، شب برأت (پندرہ شعبان المعظم کی رات)، عید الفطر کی رات۔
اس کے علاوہ ہمارا طرز عمل رمضان کے بعد بھی وہی ہونا چاہیے جو رمضان میں تھا۔ جس طرح ہم نے پانچوں نمازوں کا اہتمام کیا ہم یہ عہد کریں یہ نیت کریں ، اب انشاء اللہ رمضان کے بعد بھی ہم اس کا پورا اہتمام کرینگے ، جیسا کہ رمضان میں اہتمام کیا ۔ جس طرح رمضان المبارک میں آپ نے گناہوں سے اجتناب کیا یا کم از کم کوشش کی رمضان کے بعد بھی وہی اہتمام باقی رکھیں ۔ جس طرح رمضان المبارک میں تراویح اور تہجد کا اہتمام کیا اسی طرح رمضان کے بعد بھی تہجد،چاشت اور اشراق کا اہتمام کیا جائے، اور اپنے آپ کو اسی کا عادی بنایاجائے تاکہ بے شمار فضائل واجر عظیم سے مالا مال ہو سکیں۔ جب رمضان المبارک میں ہم نے تلاوت قرآن کا اہتمام کیا ہے اور کئی ایک قرآن ختم کیا ہے ،رمضان کے بعد بھی اہتمام کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے رہیں ۔ جس طرح رمضان میں زکوٰۃ و صدقات ادا کرنے کا اہتمام کیا، رمضان کے بعد بھی اس کا پورا اہتمام کریں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کا کوئی معمول رمضان المبارک میں کرنے رہ جاتا تو آپ شوال میں اس کی قضا کرلیتے تھے؛ مثلا: ایک مرتبہ کسی وجہ سے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں اعتکاف نہ کرسکے تو کسی مجبوری کی وجہ سے نو شوال میں اس کی قضا کی بل کہ شعبان میں چھوٹے ہوئے عمل کی قضابھی شوال ہی میں کرنے کی فرماتے( بخاری ومسلم )
اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ رمضان کے قضا روزے کی قضا بھی شوال میں شوال کے روزے رکھنے سے پہلے کرلیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رضا اور خصوصی انعامات سے نوازے۔ (آمین
بیہقی فی شعب الایمان:۳۵۴۰، عن ابن عباس رضی اللہ عنہ)ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام (آسمانوں پر) لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات) لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں۔ یہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس رب کریم کی (درگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے۔ پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ‘ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں: کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو، وہ عرض کرتے ہیں ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے تو اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی اوربندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم! آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا۔ دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میری عزت کی قسم کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستّاری کرتا رہوں گا۔ (اور ان کو چھپاتا رہوں گا) میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں (اور کافروں) کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا۔ بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔ تم نے مجھے راضی کرلیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔ پس فرشتے اس اجروثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو عید کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔ (رواہ ابوالشیخ ابن حبان فی کتاب الثواب)
لیکن ذرا غور کیجئے!ذرا تصور کیجئے!
ایک شخص اپنی پوری زندگی کی پونجی ایک عالیشان مکان اورمحل بنانے پرصرف کردے اور جب خون پسینے کی گاڑھی کمائی سے بننے والا اس کاخوبصورت محل تیار ہوجائے تویکایک وہ شخص اپنے ہی ہاتھوں بنائے ہوئے اس محل کوگرانے پرکمربستہ ہوجائے۔۔۔کیا ایسے شخص کو ہوشمندوعاقل سمجھاجائے گا۔۔۔کیااسے پاگل اور مجنون نہیں سمجھاجائے گا۔۔۔ایک طالب علم سال بھرامتحان کی تیاری کرے‘دن رات کاآرام ‘چین‘ نینداورسکون اپنے اوپر حرام کرے‘ بالآخر اللہ اللہ کرکے وہ کمرۛ? امتحان میں داخل ہو‘ بڑی تندہی ‘محنت او ر کامیابی سے وہ اپناپیپرحل کرے لیکن اچانک وہ اپناساراحل شدہ پرچہ پھاڑ کرکمرۂ امتحان سے باہر نکل آئے اور بلاوجہ، بے لگام اچھلنا کودنا‘ناچناگانا اورہنگامہ کرنا شروع کردے۔۔۔ ایسے طالب علم کوکیاکہاجائے گا؟۔۔۔کیااسے بے وقوف اور دیوانہ نہیں کہاجائے گا کہ اس نے اپنے سارے سال کی مشقت اور خونِ جگرکی محنت پریکلخت پانی پھیردیا؟۔۔۔ایک مالی ایک پودے کوشب وروزمحنت سے سینچے‘گرمی ‘سردی اور دھوپ سائے کی پرواہ کئے بغیروہ اس پودے کی پرورش کرے اورجب یہ پودا ایک تناور درخت بن جائے اور پھل دینے کے قریب آجائے تو مالی کلہاڑا لے کر اس درخت کوکاٹنے پرتل جائے۔۔۔ ذرا سوچئے اسے کیاکہاجائے گا !۔۔۔ کیا دنیا میں ایسے انسانوں‘ ایسے طالب علموں اور ایسے مالیوں کا تصورکیاجا سکتا ہے؟ کیاایسے انسا ن دنیامیں موجود ہیں یاموجود ہوسکتے ہیں؟جی ہاں! ہمارا تجربہ اورمشاہدہ بتاتاہے کہ دنیامیں ایسے انسان موجودہیں۔ البتہ یہ کہاجاسکتاہے کہ ایسے انسان دنیامیں بہت کم ہوتے ہیں، شاذونادر ہوتے ہیں، آٹے میں نمک کے برابرہوتے ہیں۔
لیکن یہ کیا یہاں تو معاملہ بالکل الٹا ہے، ایسی مجنونانہ حرکتیں کرنے والوں کی اتنی زیادہ تعداد ۔ذرا اپنے اردگرد دیکھئے یہ کیاہورہاہے؟ کوئی ہنگامہ برپاہے،کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی،ایک ہجوم ہے،انسانوں کاسمندر ہے، چکاچوند روشنیاں ہیں، آنکھوں کوشرم سے پانی پانی کردینے والے مناظر ہیں، یہ کون ہے؟ حوّا کی بیٹی ہے،اسلام کی بیٹی ہے،مسلمان کی بیٹی ہے۔ ارے بھئی !ابھی کچھ وقت پہلے ہی کی بات ہے ‘یہ شرم وحیاء کی پتلی تھی، ایمان میں سرتاپا ڈوبی تھی، صوم وصلوٰۃ کے زیور سے لدی تھی، نظریں شرم سے جھکی تھیں، پردہ و حجاب میں لپٹی اور سمٹی تھی۔ لیکن آج اسے کیا ہوا۔ یہ چاند نکلتے ہی اس پر کیا جنون چھا گیا، کیا اس کاایمان ہی رخصت ہوگیا؟ یہ پردہ ‘یہ حجاب کہاں گیا؟ آوارہ مردوں کے ہجوم میں اس کا کیاکام،ارے یہ کس کی بہن ہے اس نے توکبھی اپنا ہاتھ کسی غیرمرد کونہ دکھایاتھا اوراب اسے کیاہوا ایک غیرمرد کواپنا ہاتھ پکڑارہی ہے ۔ محض اس لئے کہ اس کے ہاتھوں پرمہندی لگادی جائے۔ اور ذرا ادھردیکھئے ۔ اسے کیا ہوا؟ محرم مردوں کواپنے بازو نہ دکھانے والی نامحرموں کو اپنے بازوتھمارہی ہے، تاکہ اسے چوڑیاں پہنادی جائیں۔ اوریہاں مسلمان بہنیں یہ کیاکررہی ہے، بیوٹی پارلر میں گھسی ہے‘اپنے چہرے کوبگاڑ رہی ہے‘ فطرت کو مسخ کررہی ہے ‘کہیں پلکیں بدل رہی ہیں توکہیں بھنویں، کہیں جسم سے بال اکھڑوانے کے لئے تھریڈنگ ہورہی ہے توکہیں فشل اور ماسکنگ اورکہیں مصنوعی ناخن لگ رہے ہیں، کیا یوں اللہ کے دئیے ہوئے قدرتی اورحسین چہرے اور جسم کوپسندنہ کرنے والی اللہ کی رحمت کی مستحق ہوسکتی ہے؟ کیا انہیں اللہ کے نبی کایہ انتباہ بھول گیاہے۔۔۔جس میں آپ نے فرمایاتھا۔۔۔ ’’اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ان عورتوں پر جومردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اوران مردوں پرجوعورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور جوجسم گودتی اور گدواتی ہیں اورجواپنے حسن میں اضافہ کے لئے اپنے دانتوں میں خلا پیدا کرتی ہیں اور اپنی بھنووں اور پلکوں کوکترواتی ہیں اورجواپنے بالوں کے ساتھ نقلی بال لگواتی یااضافہ کرتی ہیں‘ وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرتی ہیں۔‘‘ اورہاں!ذرا ان مسلمان نوجوانوں کو بھی دیکھئے ! مہینہ بھر صوم وصلوٰۃ کے پابندرہنے والے ،پانچوں وقت مسجدوں کو آباد کرنے والے، ایک ماہ میں کئی کئی قرآن ختم کرنے والے، اعتکاف کے کرنے والے ، چاند رات آتے ہی یوں شتر بے مہار ہوگئے جیسے ایمان ان کوچھوکر بھی نہیں گیاتھا، کہیں عورتوں پر ٹکٹکیاں لگائی ہوئی ہیں توکہیں ان پر آوازے کس رہے ہیں، کہیں شیطان کی آواز ، موسیقی کی دھنوں پر بڑے بڑے ڈیک لگاکر ناچ کودرہے ہیں‘ شریفوں اور مریضوں کا جینا دوبھر کیے ہوئے ، توکہیں فلموں اور ڈراموں میں مست ہیں، کہیں سگریٹوں کے مرغولے بنارہے ہیں، توکہیں شراب کے جام لٹائے جارہے ہیں۔ کہیں ون ویلنگ کے کرتب دکھاکراپنی جوانیوں کو موت کالقمہ بنارہے ہیں ۔ اور یہ فحش عید کارڈوں کے اسٹالوں پر کون کھڑا ہے؟ اسلام کی بیٹیاں بھی اور بیٹے بھی۔ پھرسب سے بڑے المیے اور ستم کی بات یہ ہے کہ عیدکارڈ بھی ایسے ملک کے اداکاروں اور کھلاڑیوں کے جوہمارا ازلی دشمن ہے۔
کیا یہ سب اپنی محنتوں کو اپنے ہاتھوں برباد کرنے کے مترادف نہیں؟ کیا یہ جنونیت اور حماقت نہیں؟ خدارا کچھ سوچیں ! ہم رمضان میں بنی ہوئی ایمان کی یہ عمارت عید کی ایک ہی رات میں کیوں زمین بوس کرنا چاہتے ہیں؟
اس کے برعکس ہمارے اکابرین اور بزرگوں کا طرز عمل تو یہ تھا:
حضرت عامر ابن قیس کے بارے میں مروی ہیکہ وہ اختتام رمضان پر رونے لگے ،تو لوگوں نے کہا آپ کیوں رورہے ہیں ؟ تو فرمایا قسم بخدا متاع دنیا کے ضائع ہونے پر نہیں رورہا ہوں ، میں تو روزے میں پیاس کی شدت پر اور ٹھنڈی رات میں اللہ کے حضور میں کھڑے ہونے کی مشقت کے ہاتھوں سے چلے جانے پر رورہا ہوں، یعنی روزہ تراویح اور دیگر رمضانی عبادت اب نہ ہونے کا افسوس ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب رمضان المبارک کی آخری رات ہوتی تو آپ فرماتے ،ہائے کاش مجھے معلوم ہوجائے کہ کون ہے وہ شخص جس کی رمضان المبارک میں عبادتیں قبول ہوگئی ، تو میں انہیں مبارک باد دیتا ، اور اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون ہے ، جس کی عبادتیں قبول نہ ہو سکی اور وہ محروم رہا تو ہم اس کی تعزیت کرتے ۔
ایک بزرگ کو عید کے دن لوگوں نے غم زدہ دیکھا تو لوگوں نے کہا کہ خوشی اور مسرت کے دن آپ غم زدہ کیوں نظر آرہے ہیں؟تو فرمایا ، بات تو صحیح ہے کہ یہ خوشی اور مسرت کا دن ہے ، مگر مجھے اس بات نے غم میں ڈال رکھا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہو ں جس نے مجھے روزے اور دیگر عبادات کا حکم دیا ، مگر مجھے نہیں علم کے میرے یہ اعمال عنداللہ مقبول بھی ہوئے یا نہیں؟۔
بشر حافی رحمۃاللہ سے کسی نے دریافت کیا ، کہ حضرت بہت سے مسلمان ایسے دیکھے گئے ،جوصرف رمضان المبار ک میں خوب عبادت اور مجاہدہ کرتے ہیں اور بقیہ سال بھر پھر کچھ نہیں ، تو آپ نے فرمایا ، ایسااس لئے کہ انہوں نے اللہ کو کماحقہ نہیں پہچانا ، اور عارضی صرف رمضان المبارک کی حد تک کی عبادت کس کام کی؟ اصل عبادت اور حقیقی صلاح وتقویٰ تو یہ ہے کہ مسلمان سال بھر عبادت وریاضت ومجاہدہ ومحاسبہ میں لگارہے ۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ انعام کی اس رات کو اس طرح گزاریں کہ انعام دینے والا ہم سے خوش ہو۔
ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص پانچ راتوں میں (عبادت کیلئے ) جاگے۔ اس کے واسطے جنت واجب ہوجائے گی۔ لیلۃ التزویہ (آٹھ ذی الحجہ کی رات)، لیلۃ العرفہ (۹ ذی الحجہ کی رات)، لیلۃ النحر (۰۱ ذی الحجہ کی رات)، شب برأت (پندرہ شعبان المعظم کی رات)، عید الفطر کی رات۔
اس کے علاوہ ہمارا طرز عمل رمضان کے بعد بھی وہی ہونا چاہیے جو رمضان میں تھا۔ جس طرح ہم نے پانچوں نمازوں کا اہتمام کیا ہم یہ عہد کریں یہ نیت کریں ، اب انشاء اللہ رمضان کے بعد بھی ہم اس کا پورا اہتمام کرینگے ، جیسا کہ رمضان میں اہتمام کیا ۔ جس طرح رمضان المبارک میں آپ نے گناہوں سے اجتناب کیا یا کم از کم کوشش کی رمضان کے بعد بھی وہی اہتمام باقی رکھیں ۔ جس طرح رمضان المبارک میں تراویح اور تہجد کا اہتمام کیا اسی طرح رمضان کے بعد بھی تہجد،چاشت اور اشراق کا اہتمام کیا جائے، اور اپنے آپ کو اسی کا عادی بنایاجائے تاکہ بے شمار فضائل واجر عظیم سے مالا مال ہو سکیں۔ جب رمضان المبارک میں ہم نے تلاوت قرآن کا اہتمام کیا ہے اور کئی ایک قرآن ختم کیا ہے ،رمضان کے بعد بھی اہتمام کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے رہیں ۔ جس طرح رمضان میں زکوٰۃ و صدقات ادا کرنے کا اہتمام کیا، رمضان کے بعد بھی اس کا پورا اہتمام کریں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کا کوئی معمول رمضان المبارک میں کرنے رہ جاتا تو آپ شوال میں اس کی قضا کرلیتے تھے؛ مثلا: ایک مرتبہ کسی وجہ سے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں اعتکاف نہ کرسکے تو کسی مجبوری کی وجہ سے نو شوال میں اس کی قضا کی بل کہ شعبان میں چھوٹے ہوئے عمل کی قضابھی شوال ہی میں کرنے کی فرماتے( بخاری ومسلم )
اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ رمضان کے قضا روزے کی قضا بھی شوال میں شوال کے روزے رکھنے سے پہلے کرلیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رضا اور خصوصی انعامات سے نوازے۔ (آمین
Saturday, August 27, 2011
مصافحہ کا مسنون طریقہ
مصافحہ کا مسنون طریقہ
دین اسلام ایک جامع مذہب ہےجو زندگی کے تمام شعبوںمیں انسان کی صحیح رہبری کرتا ہے ،انسانی زندگی کا کوئ مسلھ اس کی دسترس سے باہر نہی ہے ،عبادات ہو یا،سیاسیات ،معاملات ہو یا معاشات،اس کی تعلیمات نے ہر سطح سےانسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیاہے ، نیز اسلامی تعلیمات ہی کی یہ خوبی ہے اس نے انسانیت کو ان تمام کاموں کی تعلیم اور تر غیب دی ہے جو عام ان سانوں کے لیۓ راحت وسکون اورالفت و محبت کا زریعہ بنے اور ان تمام کاموں سے روکا اور منع کیا ہے جو دوسروں کی تکلیف اور اذیت کا باعث ہو-
اسلام کی انہی تعلیمات میں ایک سلام اور مصافحہ بہی ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےآپس میں سلام کو عام کر نے کا حکم دیا ہے اور اس کو محبت کا زریعہ فرما یا ہے اور سلام ہی کا تتمہ مصافحہ بھی ہے ،اس کا ثبوت بھی احادیث میں موجود ہے –حضرت قتادہ رضی اللہ عنہنے فرمایا:کانت المصافحۃ فی اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم (بخاری2/926)سلام اور مصافحہ کہ بہت سے فضائل احادیث مبارکہ میں بیان کیۓگیۓ ہیں- حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا:ما من مسلمین یلتقیان فیتصافحان الا غفرلھماقبل ان یتفرقا- (رواہ احمدوالترمذی وابن ماجہ)
ان دونوں روایتوں سے یہ بات واضح ہو گئي کہ مصافحہ کر نا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور حضرات صحابہ کا طریقہ رہا ہے ، اسی لیۓ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں جو بذات خود محبت ، اتفاق اور مان کا پیغام ہے اور سلام کے ساتھ مصافحہ بھی کرتے ہیں ،سلام اور مصافحہ کر نے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے – مسلمان ہمیشہ اس کو مانتے اور اس پر عمل کرتے آیۓ ہیں ، اس لیۓ اس پر زیادہ تفصیل کی ضرورت نہی ہے، لیکن سلام کے بعد مصافحہ کے طریقہ میں اس زمانے کہ بعض یاروں نے اختلاف پیدا کر دیا جو سلام اور مصافحہ مسلمان اظہار محبت کے لیۓ کیاکرتے تھے ،بعضوں کو یہ الفت وہ محبت بھی دیکھی نہ گيئ اس کو بھی آپسی نفرت کا زریعہ بنا دیا گيا،اہل اسلام میں دونوں ہاتوں سے مصافحہ متوارث تھاکیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ وہ تابعین کا یہی معمول تھا – حضرت امام بخاری نے اپنی صحیح میں باب باندھا :
باب المصافحۃ،اسمیں حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنھ فرماتے ہیں:
علمنی النبی صلی اللہ علیھ وسلم التشھدوکفی بین کفیھ۔(بخاری2/926)
مجھے آپ صلی اللہ علیھ وسلم تشھد سکھایا،اس حال میں کہ میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیھ وسلم کے دونوں ہاتوں کے درمیان تھا-
امام بخاری رح نے اس روایت کو مصافحہ کے باب میں نقل کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول دو ہاتھ سے مصافحہ کرنا تھا کہ وضاحت کے لیۓباب الاخذبالیدین یعنی دونوں ہاتوں سے مصافحہ کا باب علحیدہ قائم فرماکراس میں حضرات تابعین کے عمل کو واضح کرتے ہوۓ فرما یا:حضرت حماد نے حضرت ابن مبارک سے دو ہاتوں سے مصافحہ کیا - (2/9)
اس کے بعد امام بخاری علیھ الرحمہ نےاسی حديث ابن مسعود کو دوبارہ اس باب کے تحت بھی نقل کیاتاکہ دو ہبتھ سے مصافحہ کر نے میں کویئ شبہ باقی نہ رہے اور اس کا سنت رسول ہونااور زیادہ واضح ہوجایۓ- اسی وجہ سے امت مسلمہ میں ہمیشہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ متوارث رہا ہے- ہندوستان میں انگریزکی آمد سے پہلے کسی اسلامی کتاب میں دو ہاتھ سے مصافحہ کرنے کوبدعت اور خلاف سنت نہی کہا گیا،اس دور میں یہ عجیب واقعہ ہوا کہ مسلمان جب آپس میں ملتے تودو ہاتھ سے مصافحہ کرتے تھے،لیکن انگریز جب ایک دوسرے سے ملتے توایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے تھے،ان کے اس طریقے کو پہلے نیچریوں نے اپنا یا اور کالجوں وغیرہ میں ایک ہاتھ کے مصافحہ کا رواج شروع ہو گیا،البتہ وہ لوگ،اس کو حاکم قوم کا طریقہ ہی سمجھتے تھے ،پھرنیچری حضرات کی تقلید میں غیرمقلدینحضرات میں بھی صرف دایئں ہاتھ سے مصافحہ کا رواج چل پڑا،البتہ فرق یہ ہو گیا کہ ان دوستوں نے مسلمانوں کے متوارث دو ہاتھ سے مصافحہ کو بدعت اور خلاف سنت قرار دیدیااور انگریزوں اور نیچریوں کے طریق مصافحہ کو سنت نبوی قرار دیدیا ،اہل اسلام کو نبی کے مخالف،نبی پاک کی سنتوں کو مٹانے والا قرار دیدیا،معروف اسلامی طریقے کو مٹانے کا نام احیاء سنت رکھا گیا،اس طرح سلام اور مصافحہ جو آجتک مسلمانوں میں محبت اور معرفت کا زریعہ تھاوہ بھی اختلاف اور شقاق وہ لڑایئ کا زریعہ بن گیا،لیکن چونکہ اس طریقے کو یاروں نے سنت قرار دیدیاتو اب ان سے اس سلسلے میں دلیل کے مطالبے ہوۓتو کہنے لگےکہ بعض احادیث سلام میں اخذ بالید اخذ بیدہ کے الفاظ ملتے ہیں اور یہ واحد ہے جس سے معلوم ہواکہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا چاہیۓ- اہل سنت والجماعت یہ سن کران کی حدیث دانی پر سخت حیران ہوۓ،کینکہ انسان کے جسم میں جو ایک سے زائد اعضا ہیں ان کے لیۓ بھی بطور جنس ہر زبان میں واحد کا صیغہ بولا جاتا ہے جیسے کوئ کہتا ہے :میں تیرے گھر میں قدم نہی رکھوں گا: ایک قدم بولا جاتا ہے ،مگر مراد دونوں قدم لیۓ جاتے ہيں ،اسی طرح کہا جاتا ہے ، کہ میں میں نے تجھے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا، اس کا یہ مطلب نہی ہوتا کہ صرف ایک ہی آنکھ سے دیکھا تھا،دوسری آنکھ بند کر لیا ،تھا اسی طرح احادیث میں اس طرح کےالفاظ استعمال ہوۓ ہیں جیئسے آپ صلی اللہ علیھ وسلم نے فرمایا:المسلم من سلم المسلمون من لسا نھ ویدہ :مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی ایزا سے دوسرے مسلمان محفوظ رہے – یہاں پر بھی ید واحدہی کا صیغہ ہے مگر اس کا یہ مطلب نہی ہے کہ ایک ہاتھ سے تکلیف نہ پہنچاۓ اور دوسرے ہاتھ سے تکلیف پہنچایئ جاسکتی ہے – تمام اہل اسلام نے سلام ارومصافحہ کے باب میں لفظ ید سے جنس ید مراد لے کر دو ہاتھ سے ہی مصافحہ کو سنت قرار دیا ہے -
امام بخاری علیہ الرحمہ اپنی تاریخ میں فرما تے ہیں: حدثنی اصحابناوغیرہ عن اسماعیل بن زید وجاءہ ابن مبارک بمکۃ وصافحھ بکلتا یدیہ ۔ (حاشیہ بخاری2/926)
اسماعیل بن ابراھیم فرماتے ہیں کہ میں نے حماد بن زید کو دیکھا کہ ان کے پاس عبداللہ بن مبارک مکہ مکرمہ میں تشریف لاۓتو آپ نے دونوں ہاتوں سے مصافحہ کیا –
یاد رہے کہ یہ دونوں بزرگ اپنے زمانے میں اماالمحدثین تھے –
حضرت عایئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے فرما یا:قد بایعتک میں نے تجھے بیعت کیا، حضرت عايئشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ صرف کلام سے بیعت فرما یاہاتھ کر بیعت نہی فرما یا – علامہ قسطلانی ارشاد الساری شرح بخاری اور علامہ عینی عمدۃ القاری شرح بخاری اس کی شرح فرماتے ہیں :ائ لا بالیدکما کان یبایع الرجال بالمصافحۃ بالیدین۔ یعنی ہاتھ سے بیعت نہی فرمایا جس طرح مردوں کو بیعت کرتے وقت دونوں ہاتھ سے مصافحہ کیا کرتے تھے-
حضرت مولاناامین صفدراکاڑویرحمہ اللہ نے اپنی کتاب تجلیات میں ایک عجیب لطیفہ لکھا ہے کہ ایک غیر مقلد دوست کو بخاری شریف سے دو ہاتھ سے مصافحہ کی حدیث دکھا یئ گیئ تو تھوڑی دیر خاموش رھنے کہ بعد بولا کہ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیھ وسلم مصافحہ میں دو ہاتھ تھے لیکن حضرت ابن مسعود کا تو ایک ہی ہاتھ تھا ،میں نبی تو نہی کہ دو ہاتھ سے مصافحہ کروں،میں چنوکہ نبی نہی حضرت ابن مسعود کی اتباع کرونگا ،تو حضرت نے فرمایا تم جیسے نبی نہی ،اسی طرح ابن مسعود کی طرح صحابی بھی نہی ہو،اس لیۓ تم مصافحہ میں انگوٹھے سے انگوٹھاملا لیا کرو ،نہ تمہارے نبی ہونے کا شبہ ہو نہ صحابی ہونے کا شبہ ہو-
اصلا بات یہ ہے کہ حدیث میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ دوسرے ہاتھ کی نفی نہی ہے- کس کا دل مانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیھ وسلم تودو ہاتھ سے مصافحہ فرمایئں اور ابن مسعود ایک ہی ہاتھ بڑہایئں ، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے اس ایک ہاتھ یہ خوبی واضح کر نا چاہتے ہیں کہ میرے ایک ہاتھ کے دو طرف حضور صلی اللہ علیھ وسلم کی ہتیلیاں تھیں-
اللہ پاک تمام مسلمانوں کو تمام مسلمانوں کو عقل سلیم عطا فرمایۓ اور سنت کی اتباع کی توفیق عطا فرمایۓ - آمین
رمضان کا آخری عشرہ
رمضان کا آخری عشرہ
عشرہ صفائی:
ہمارے ہاں ایک اور اہم اور غلط روایت ہے کہ آخری عشرہ عبادت کی بجائے گھر کی صفائیوں اور دھلائیوں کا عشرہ بن جاتا ہے. خواتین تمام کپڑے، فرش، ٹیبل اور صوفہ کور اور دیگر اشیاء کی دھلائی عید سے قبل (ظاہر ہے آخری عشرے میں) کرتی ہیں اور اس میں خوب محنت کی جاتی ہے. گھروں کو سجانے میں بعض اوقات غلو سے کام لیا جاتا ہے اور یوں عشرہ عبادت و ریاضت، تھکن کی نذر ہوجاتا ہے. یہ بھی جہالت کا فعل ہے۔ خواتین کو بھی اس عشرے میں گھر کی صفائی دھلائی سے زیادہ روحانی صفائی اور طہارت پر توجہ دینی چاہیے. (صفائی سے منع نہیں کررہے لیکن غلو سے پرہیز ہونا چاہیے). غیرضروری کاموں سے توجہ ہٹا کر وقت اعتکاف اور ذکرودعا میں لگانا چاہیے۔
جن خواتین کے لیے ممکن ہو دس دن کا اعتکاف کریں (اس دوران اٹھ کر کھانا وغیرہ پکا سکتی ہیں اگر کوئی اور انتظام نہ ہو تو)۔ جن کے بچے چھوٹے ہوں اور پورا اعتکاف ممکن نہ ہو تو چند دنوں اور چند گھنٹوں کا اعتکاف بھی ہوسکتا ہے اور گھر کا کام کرنے والی خواتین تو دہرا اجر سمیٹ سکتی ہیں اپنے نیک اور نمازی شوہر اور اولاد کی خدمت اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرنا باعث اجر ہے اور یہ کام کرتے ہوئے وہ مسلسل تلاوت اور ذکر کرتی رہیں اور اپنا نامہ اعمال دونوں طرح سے بھرتی رہیں یعنی اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دل کو اﷲ کی یاد میں اٹکا ئے رکھنا. ہماری ایک بہن نے گھریلو کام کاج کے دوران سورہ بقرہ حفظ کر لی، ایک نے اس کے ساتھ سورہ آل عمران بھی کرلی اور ایک بہن نے اسی طرح گھر کی مصروفیات کے ساتھ چند سال میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ لہذا رمضان میں غیر ضروری مصروفیات ترک کر کے اس طرح کا کوئی منصوبہ بنانا مشکل نہیں۔ جہاں چاہ وہاں راہ ان شاء اﷲ.
عید کی تیاری اور خریداری:
رمضان میں بازاروں میں پھرنا، انتہائی نقصان دہ ہے. اس لیے کہ دنیا میں اﷲ کی سب سے زیادہ نا پسندیدہ جگہ بازار ہے. بازار میں جا کر انسان کی نیکیاں ایسے جھڑتی ہیں جیسے درخت کے پتے کیونکہ ایک تو وہاں ہر طرف سامان دنیا ہوتا ہے جو انسان کو غافل کردیتا ہے اور دوسری جانب عورتیں ہوں یا مرد کثرت سے نا محرموں کے درمیان ہوتے ہیں اور نظریں بچانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ بد نصیبی سے رمضان میں بازاروں میں چلت پھرت کم ہونے کی بجائے بڑھ جاتی ہے اور آخری عشرے میں دیر تک بازار کھلے رہتے ہیں۔ حتیٰ کے جمعہ کے دن بھی اور طاق راتوں میں بھی انا ﷲ و انا الیہ راجعون اور چوڑیوں وغیرہ کے بازاروں میں آخری راتوں میں کھوئے سے کھوا چھلتا ہے. یہ ناممکن ہے کہ سڑکوں اور بازاروں میں پھرا جائے اور پھر نمازوں میں خشوع برقرار رہے۔ اور انسان، عبادت، تلاوت اور اذکار یکسوئی سے کر سکے. کتنے بد نصیب ہیں وہ مسلمان معاشرے، جہاں رمضان میں بھی بازار آباد ہوں اور مسجدیں ویران، اولئک الذین اشتروالحیوۃ الدنیا بالاخرۃ ( سورہ البقرہ)’’ان لوگوں نے آخرت کے بدلے حیوۃ دنیا خرید لی ہے‘‘ انہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ سرمایہ آخرت میں بہت ہی تھوڑا نکلے گا! ’’کاش انہیں معلوم ہو جائے یہ کتنی بری تجارت ہے‘‘
کوشش یہ ہونی چاہیے کہ تمام اہم خریداری رمضان سے قبل کر لی جائے اور خواتین بازاروں میں جانے سے حتی ٰ الامکان گریز کریں اور اپنے مردوں کی خریداری پرقناعت کریں کہ یہ نیکیوں کی حفاظت کا ذریعہ ہوگا ان شاء اﷲ ا
اجرت لینے کی رات:
لیجئے مہمان کے رخصت ہونے کا وقت آگیا۔ رحمت، مغفرت اور آتش دوزخ سے رہائی حاصل کرنے کی فکر میں مومنین نے مہینہ بھر محنت اور مشقت میں گزارا، دن بھر بھوک پیاس برداشت کی، زبان، آنکھ کان، دیگر اعضاء کو ہر طرح کے گناہوں سے روکے رکھا، قرآن و اذکار ورد زبان رہے اور راتیں اپنے رب ذولجلال والاکرام اﷲ کے حضور قیام و سجود میں گزاریں۔ اس کا پاک کلام سنا۔ غفلت کی نیند سے بچ بچ کر راتیں گزارنے کی سعی کرتے رہے۔ سحروافطار رب کے حضور گڑگڑاتے رہے اور الرحمان والرحیم اور الودودو المجیب اﷲ سب کچھ محبت سے دیکھتا رہا۔ سحر کے وقت اور طاق راتوں میں فرشتے اترتے رہے، مومنین کو دیکھتے رہے، ان کی دعائوں پر آمین کہتے رہے اور جبرائیل خوش نصیبوں سے مصافحہ کرتے رہے۔ اﷲ فرشتوں سے مومنین کے تنافس پر فخر کرتا رہا۔ یہاں تک کہ رمضان گزر گیا اور اجر کی رات آگئی۔
وہ رات بھی عجیب رات ہوتی ہے جو آخری رات ہوتی ہے۔ جب صبح عید ہوتی ہے۔ ایک جانب غافلین ہوتے ہیں اور دوسری جانب محنت کرنے والے مومنین ہوتے ہیں جو کچھ اور ہی کیفیات سے گزرے ہوتے ہیں. رمضان کی رحمتوں کے بادل چھٹ جانے کا ایک عجیب افسردہ کرنے والا احساس طاری ہوتا ہے. اپنی کم مائیگی کا بہت زیادہ احساس کہ نہ جانے کچھ کر پائے یا نہیں، نہ جانے اﷲ کے حضور قبولیت کا کیاعالم ہے؟ ایسے میں پیارے نبی ؐ کا یہ فرمان ٹھنڈک بن کر ان کے اعصاب میں اترتا ہے کہ ’’ رمضان کی آخری رات کو میری امت کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: کیا یہی وہ لیلۃ القدر ہے حضور ؐ نے ارشاد فرمایا، ’’نہیں بلکہ مزدور کو اس کی مزدوری اس وقت دی جاتی ہے، جب وہ اپنا کام مکمل کر لیتا ہے‘‘ (احمد) اس رات کو آسمان پر لیلۃ الجائزہ کا نام دیا گیا اور یقینا جس نے جتنا کمایا ہوگا اتنا ہی اجر اور مزدوری پائے گا۔
واتقوا یوماََ ترجعون فیہ الی ﷲ ثم توفی کل نفس ما کسبت وھم لا یظلمون ہ(سورۃ البقرہ81)
’’ اس دن سے ڈرو، جب کہ تم اﷲ کی طرف واپس ہو گے، وہاں ہر شحض کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا‘‘
اﷲ ہرگز ظلم نہیں کرتا لیکن بہت سے بدنصیب ہوتے ہیں جو اس مغفرت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ وہ جنہوں نے نہ اﷲ کی رحمت کی قدر کی، نہ رمضان کا حق ادا کیا، نہ روزے کی حفاظت کی اور جو کبائر سے بھی نہ باز آئے ان کے بارے میں بہت سخت وعید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لیلۃ القدر میں فرشتے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ ’’ اﷲ تعالی نے محمد ؐ کی امت کے مومنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ کیا؟ وہ کہتے ہیں، اﷲ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف فرما دیا ! صحابہؓ نے پوچھا ،’’ یا رسول اﷲ وہ چار شحض کون ہیں؟ ارشاد ہوا، ایک وہ جو شراب کا عادی ہو، دوسرا وہ جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو، تیسرا وہ جو قطع رحمی کرنے والا اور ناطہ توڑنے والا ہو، چوتھا وہ جو کینہ رکھنے والا اور آپس میں قطع تعلق کرنے والا ہو‘‘ (ترغیب۔بہیقی) اسی طرح کی احادیث پڑھتے ہوئے یہ واضح رہنا چاہیےکہ مخاطب کون سے مسلمان ہیں۔ صحابہ کرام ؓ جو اس طرح کی نمازوں اور روزوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہوں گے جیسے کے آج کے مسلمانوں نے ان عبادات کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ اﷲ تعالی ہمیں انعام لینے والوں میں سے کرے ’’صراط الذین انعمت علیھم ہ غیر المغضوب علیھم والضالین‘‘ اور یہ رات ہم عید کی خریداری کی نذر کرنے کی بجائے عبادت میں گزاریں تا کہ اﷲ سے اپنی پوری پوری مزدوری وصول کر سکیں۔آمین۔
عید الفطر:
جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو حق شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں۔ وہ زمین سے اتر کر تمام، گلیوں، راستوں کی سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے، پکارتے ہیں کہ محمد ؐ کی امت اس کریم رب کی (درگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے۔ پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں کہ کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دی جائے تو حق تعالی شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! میں تمھیں گواہ بناتا ہوں میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو میری عزت کی قسم، میرے جلال کی قسم، آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے عطا کروں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کروگے، اس میں تمھاری مصلحت پر نظر رکھوں گا۔ میری عزت کی قسم کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمھاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا (اور ان کو چھپاتا رہوں گا) میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم میں تمھیں مجرموں ( کافروں) کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا۔ بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو۔ تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔ پس فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو افطار کے دن ملتا ہے، خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔ (ترغیب۔بہیقی)۔ اللھم اجعلنا منھم.
ہم نے رمضان سے کیا حاصل کیا؟
اس کا بہت اچھا اندازہ روزِ عید ہی ہوجاتا ہے. کیا عید کے دن خوشیاں مناتے ہوئے ہمیں حدود اﷲ کا خیال رہتا ہے؟ مہینہ بھر ضبط نفس کی جو مشق کی تھی وہ بر قرار رہتی ہے؟ یا عید کا مطلب ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ آج ساری پابندی ختم. خوب کھل کھلیں، خوب فلمیں دیکھیں، مخلوط پارٹیاں کریں،گھومیں پھریں، نمازیں قضا کریں اور نہ جانے کیا کیا غلط اعمال کیے جاتے ہیں۔ نہیں، عید کا دن ہمارے جائزے کا دن ہے۔ ایک ٹیسٹ کا دن ہوتا ہے کہ ہم نے رمضان سے کیا پایا؟ کتنی تربیت حاصل کی؟ کتنی پابندیوں پر قائم رہے اور عید کے بعد ۔۔سارا سال ہمارے اس کردار کا آئینہ ہوتا جو ہم نے رمضان میں تعمیر کیا ہوتا ہے! جس نے دوران رمضان ایک نیا اپنا آپ دریافت کیا اور اپنی تعمیر نو کر لی، ایسا رمضان مبارک ہو
Subscribe to:
Posts (Atom)





